استنبول(ایگزو نیوز ڈیسک)مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے دائرہ کار میں مزید ممالک کی شمولیت کے امکانات سامنے آگئے ہیں۔ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ معاہدے میں دیگر ممالک کے شامل ہونے کی گنجائش موجود ہے اور مصر بھی مستقبل میں اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ان کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہو گا اور ایسی صورت میں مشترکہ و متفقہ اقدامات کیے جائیں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے مکہ مکرمہ میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کی اہم شقوں کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جبکہ ایسی صورتحال میں تینوں ممالک مشترکہ اور متفقہ طور پر اقدامات کریں گے۔ترک صدر نے کہا کہ مکہ معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے تصور کو مزید مضبوط بنانا ہے،اگر کسی ایک ملک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہوتا ہے تو باقی دونوں ممالک بھی اسے مشترکہ خطرہ تصور کرتے ہوئے مربوط ردعمل دیں گے۔رجب طیب ایردوان نے کہا کہ معاہدے کے تحت کسی بیرونی حملے کی صورت میں تینوں ممالک اپنے باہمی مشاورتی اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کارروائی کریں گے،یہ شق رکن ممالک کی سلامتی کو باہمی طور پر منسلک کرتی ہے اور علاقائی دفاعی تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جاتی ہے۔
ترک صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ صرف موجودہ تین ممالک تک محدود نہیں اور اس میں دیگر ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مزید ممالک اس شراکت داری کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ مصر کی ممکنہ شمولیت کے امکانات بھی موجود ہیں،مکہ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کا معاملہ وقت کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت کی گنجائش موجود ہے،معاہدے کا دائرہ وسیع ہونے کی صورت میں علاقائی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ ترکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران لبنان کی صورتحال سمیت متعدد علاقائی معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیلی حملوں کا معاملہ خاص تشویش کا باعث ہے۔ایردوان نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی جنگ اور حملوں کو روکنے کے لیے امریکا کا کردار اہم ہوسکتا ہے،خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے لیے بڑی طاقتوں کو موثر سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے لبنان کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی حملوں کا تسلسل قابلِ تشویش ہے اور عالمی برادری کو صورتحال کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
ترک صدر نے اس امر پر زور دیا کہ لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کو برقرار رکھنا خطے میں وسیع تر استحکام کے لیے ضروری ہے۔شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکیہ شام کے استحکام کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے،شام میں امن،سیاسی استحکام اور علاقائی سلامتی کا قیام پورے خطے کے مفاد میں ہے،شام میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوسکتے ہیں،اس لیے شام کے استحکام کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون ضروری ہے۔مکہ دفاعی معاہدے پر ایردوان کے حالیہ بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے انتظام میں مشترکہ دفاع اور باہمی سلامتی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جبکہ مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے امکانات بھی زیرِبحث ہیں۔دفاعی معاہدے کی عملی تفصیلات،مشترکہ ردعمل کے طریقہ کار اور دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے مزید تفصیلات متعلقہ حکومتوں کی جانب سے آئندہ سامنے آنے کی توقع ہے۔