برمنگھم(ایگزو نیوز ڈیسک)انگلینڈ کے خلاف سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں بھی پاکستانی بیٹنگ لائن اپ انگلش فاسٹ بالرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور قومی ٹیم پہلی اننگز میں 113 رنز پر 9 وکٹیں گنوا بیٹھی،جس کے بعد پاکستان کو تین میچوں کی سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کا چیلنج مزید سنگین ہو گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق برمنگھم کے ایجبسٹن گراونڈ میں کھیلے جارہے فیصلہ کن ٹیسٹ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تاہم میزبان ٹیم کے بالنگ اٹیک نے ابتدا ہی سے پاکستانی بیٹرز کو دباو میں رکھا اور وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرکے قومی ٹیم کی اننگز کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔پاکستان کی جانب سے صائم ایوب نے طویل عرصے بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کی لیکن وہ اپنا کھاتا کھولے بغیر ہی اولی رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ابتدائی نقصان کے بعد دوسرے اوپنر اذان اویس بھی زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے اور 9 رنز بنا کر جوفرا آرچر کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔عبداللہ شفیق بھی انگلش بولنگ کے سامنے بے بس نظر آئے اور صرف 3 رنز بنا کر اولی رابنسن کا شکار ہوگئے جبکہ کپتان شان مسعود 5 رنز بنا کر جوفرا آرچر کی گیند پر کیچ آوٹ ہوئے۔
قومی ٹیم کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب کپتان بابر اعظم بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔بابر اعظم 7 رنز بنانے کے بعد جوش ٹنگ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔اس کے بعد ڈیبیو کرنے والے وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری بھی صرف 4 رنز بنا سکے اور جوش ٹنگ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ایک اور ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی محمد عمران رندھاوا کی اننگز بھی 5 رنز تک محدود رہی اور وہ بھی جوش ٹنگ کا شکار بن گئے۔ابتدائی وکٹیں تیزی سے گرنے کے باعث پاکستان نے محض 15 اوورز میں 48 رنز پر اپنی نصف ٹیم کھو دی تھی۔ایسے مشکل وقت میں سعود شکیل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کو سہارا دینے کی کوشش کی اور نچلے نمبروں کے بیٹرز کے ساتھ سکور کو آگے بڑھایا۔پاکستان کی آٹھویں وکٹ 101 رنز کے مجموعی سکور پر گری،جب ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ 11 رنز بنا کر اولی رابنسن کی گیند پر بین ڈکٹ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوگئے۔سعود شکیل نے 43 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی تاہم وہ بھی 107 کے مجموعی سکور پر جوش ٹنگ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
یوں قومی ٹیم کی امیدیں ایک بار پھر نچلے نمبروں کے بلے بازوں سے وابستہ ہوگئیں۔انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹنگ نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے چار پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، اولی رابنسن نے تین جبکہ جوفرا آرچر نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ انگلش پیس اٹیک نے پاکستانی بیٹنگ کو مسلسل دباو میں رکھا اور کسی بھی مرحلے پر بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان نے لارڈز میں شکست کھانے والی ٹیم میں چار تبدیلیاں کی تھیں۔صائم ایوب کو طویل عرصے بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپس لایا گیا جبکہ محمد عمران رندھاوا، رضا اللہ اور غازی غوری کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا۔لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز کی شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سکواڈ میں غیر معمولی تبدیلیاں کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجا اور مزید سات کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا تھا۔ان میں متعدد کھلاڑی پہلی مرتبہ ٹیسٹ سکواڈ کا حصہ بنے۔پاکستان اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں اننگز کی شکست جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے ہار چکا ہے،جس کے نتیجے میں انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے۔قومی ٹیم کے لیے ایجبسٹن ٹیسٹ اب سیریز میں شکست سے بچنے کا نہیں بلکہ وائٹ واش سے خود کو محفوظ رکھنے کا آخری موقع ہے۔مسلسل دو شکستوں اور تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی بیٹنگ کی بدترین کارکردگی نے پاکستان کے لیے صورتحال انتہائی مشکل بنا دی ہے۔پاکستان کی پلیئنگ الیون میں اذان اویس،صائم ایوب،عبداللہ شفیق،شان مسعود،بابر اعظم،سعود شکیل،غازی غوری،محمد عمران رندھاوا،رضا اللہ،محمد علی اور محمد عباس شامل ہیں جبکہ انگلینڈ نے سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ جیتنے والی ٹیم پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے تیسرے میچ کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی۔