Home » مکہ معاہدہ تین ممالک تک محدود نہیں رہے گا،مصر ممکنہ طور پر شامل ہو سکتا ہے،ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا دعویٰ

مکہ معاہدہ تین ممالک تک محدود نہیں رہے گا،مصر ممکنہ طور پر شامل ہو سکتا ہے،ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا دعویٰ

by ahmedportugal
17 views
A+A-
Reset

استنبول(ایگزو نیوز ڈیسک)ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک تک محدود رکھنے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ اس میں خطے کے دیگر ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جبکہ مصر کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی خواہش ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو وسیع علاقائی تعاون کی بنیاد بنایا جائے اور اسے صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تک محدود نہ رکھا جائے،بعض تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد مصر بھی اس دفاعی فریم ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے ابھی مزید عملی اور تکنیکی امور پر کام کیا جانا باقی ہے تاہم مصر کی ممکنہ شمولیت کے امکانات موجود ہیں۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعے کے روز مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اس کی بنیادی شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا یا کسی نئے محاذ آرائی کے بلاک کو تشکیل دینا نہیں،معاہدہ بنیادی طور پر شریک ممالک کی سلامتی کے تحفظ،دفاعی تعاون اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کا نظام قائم کرتا ہے۔ہاکان فیدان نے اس معاہدے کی نوعیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی اعتبار سے اس میں نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت پائی جاتی ہے،جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو اجتماعی دفاع کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ مکہ معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کا مقصد تینوں اتحادی ممالک کی سلامتی کے لیے عمومی تعاون اور دفاعی یقین دہانی فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی رکن ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں اتحادی ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ متاثرہ ملک کو کس نوعیت کی،کتنی سطح کی اور کس طریقہ کار کے تحت مدد فراہم کی جائے گی۔ان کے مطابق جب تک کسی رکن ملک کے خلاف کوئی حملہ نہیں ہوتا،کسی مخصوص ملک کو اس اتحاد کی جانب سے خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ معاہدے کو خطے میں ایک وسیع تر تعاون کے فریم ورک کے طور پر دیکھا جارہا ہے،نیٹو ایک بڑا فوجی اتحاد ہے جس میں 32 ممالک شامل ہیں تاہم اس اتحاد کی بنیاد بھی ابتدا میں صرف تین ممالک سے رکھی گئی تھی،مکہ معاہدے کے معاملے میں بھی مرحلہ وار، محتاط لیکن ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ہاکان فیدان نے بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تقریباً دو سال اور آٹھ ماہ سے مذاکرات اور کوششیں جاری تھیں،معاہدہ کسی فوری ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل مشاورت اور باہمی رابطوں کے بعد طے پایا ہے۔معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے حوالے سے ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی،جو دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کے مختلف پہلووں پر سیاسی سطح پر رہنمائی فراہم کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ مکہ دفاعی تعاون کے لیے جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا تاہم اس ادارے کے عملی امور، اختیارات،طریقہ کار اور دیگر تفصیلات کمیٹی کے پہلے اجلاس میں طے کی جائیں گی۔

ترک وزیر خارجہ نے علاقائی تعاون کے ایک اور فریم ورک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ،پاکستان،سعودی عرب اور مصر نے حالیہ مہینوں کے دوران علاقائی معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک الگ گروپ بھی تشکیل دیا ہے،جسے ”آر فور“ کا نام دیا گیا ہے،اس گروپ کا مقصد خطے میں شراکت داری کو ٹھوس اور عملی طریقہ کار کے ذریعے مزید مضبوط بنانا ہے۔ہاکان فیدان نے بحیرہ احمر کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثی حملوں کے تناظر میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے قائم بین الاقوامی اتحاد میں ترکیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے،بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کی سلامتی ترکیہ کے براہ راست مفادات سے وابستہ ہے، اس لیے انقرہ کو اس معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود رہنے کے بجائے بتدریج وسیع علاقائی فریم ورک کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔مصر کی ممکنہ شمولیت اس عمل میں اہم پیش رفت تصور کی جارہی ہے تاہم اس کے لیے تکنیکی اور سیاسی معاملات پر مزید پیش رفت درکار ہوگی۔دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترکیہ کی جانب سے یہ وضاحت بھی اہم ہے کہ اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف صف بندی نہیں بلکہ رکن ممالک کی مشترکہ سلامتی،دفاعی صلاحیت اور باہمی مشاورت کو مضبوط بنانا ہے۔اس تناظر میں مکہ معاہدے کا آئندہ دائرہ کار اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے،پہلے وزرائے خارجہ اجلاس اور ممکنہ نئے ارکان کی شمولیت سے واضح ہو گا۔یوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں دفاعی اور تزویراتی تعاون کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد بنتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ مصر سمیت دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت اس فریم ورک کو مستقبل میں ایک وسیع علاقائی تعاون میں تبدیل کرسکتی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز