اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی(ایکنک) کے اجلاس میں مجموعی طور پر 1.15 کھرب روپے مالیت کے 16 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی،جن میں لاہور،ساہیوال،بہاولنگر موٹروے،تربیلا پانچویں توسیعی منصوبہ اور خوازہ خیلہ،بشام ایکسپریس وے سمیت توانائی،آبپاشی،تعلیم اور غربت کے خاتمے سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق اجلاس میں منظور کیے گئے منصوبوں میں ایک قابل ذکر حصہ ان منصوبوں کی اضافی لاگت پر مشتمل ہے جو مختلف وجوہات،بالخصوص تاخیر،لاگت میں اضافے اور نظرثانی شدہ تخمینوں کے باعث اپنے ابتدائی بجٹ سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔مجموعی طور پر تقریباً 320 ارب روپے اضافی لاگت کے طور پر شامل کیے گئے،جس سے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مالی نگرانی ایک بار پھر اہم موضوع بن گئی ہے۔ایکنک نے لاہور،ساہیوال اور بہاولنگر موٹروے منصوبے کے لیے 407 ارب روپے کی نظرثانی شدہ منظوری دی۔منصوبے کی مجموعی 295 کلومیٹر الائنمنٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پہلے پیکیج کے تحت لاہور رنگ روڈ سے راجہ جنگ انٹرچینج تک تقریباً 18.5 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کی جائے گی۔اس حصے پر 49 ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے جس کی مالی معاونت وفاقی حکومت کرے گی۔
منصوبے کے دیگر حصوں کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قابل عمل حصوں کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اپنے وسائل سے وائبلٹی گیپ فنڈنگ فراہم کرے گی جبکہ ایسے حصے جو تجارتی اعتبار سے قابل عمل نہ ہوں،ان کے لیے پنجاب حکومت کی شراکت،عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت یا وفاقی وسائل سمیت مختلف مالیاتی ذرائع کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کی لاگت بھی نظرثانی کے بعد 316 ارب روپے مقرر کردی گئی۔اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 82 ارب روپے تھی،یوں منصوبے کے تخمینے میں 282 فیصد اضافہ ہوا ہے۔منصوبے کی لاگت میں غیر معمولی اضافے کے معاملے پر اس سے قبل متعلقہ فورمز پر انتظامی امور،نگرانی اور شفافیت کے نظام سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔
اجلاس کو منصوبے کے حوالے سے مختلف تکنیکی اور انتظامی امور پر بریفنگ دی گئی جبکہ لاگت میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجوہات اور عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی فنانسنگ کی واپسی کے طریقہ کار سے متعلق بھی وضاحتیں طلب کی گئی تھیں۔ایکنک نے 48 کلومیٹر طویل خوازہ خیلہ،بشام ایکسپریس وے کی نظرثانی شدہ لاگت بھی منظور کرلی،جس کے لیے 116.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔یہ رقم منصوبے کے ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں تقریباً 37 ارب روپے زیادہ ہے،جو مجموعی لاگت میں تقریباً 47 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔اجلاس میں گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر سے منسلک کرنے والے بین الصوبائی رابطے کے منصوبے کے لیے بھی 29 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔اس منصوبے کو ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے اور دور دراز خطوں تک سفری سہولیات میں اضافے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
لاہور میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کے لیے 6.56 ارب روپے منظور کیے گئے جبکہ جنوبی پنجاب کے 10 اضلاع میں غربت کے خاتمے اور معاشی بہتری سے متعلق منصوبے کے لیے 7.29 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔تعلیم کے شعبے میں بھی اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایکنک نے فل برائٹ سکالرشپ پروگرام کے لیے تقریباً 10.16 ارب روپے کی منظوری دی۔اس پروگرام کا مقصد پاکستانی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں عالمی سطح کے تعلیمی و تحقیقی اداروں سے منسلک کرنے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں منظور کیے گئے منصوبوں میں توانائی،آبپاشی،تعلیم،انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی سے متعلق متعدد دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔حکومتی سطح پر ان منصوبوں کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ،علاقائی رابطوں میں بہتری،بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے تاہم اجلاس میں کئی منصوبوں کی لاگت میں ہونے والے نمایاں اضافے نے منصوبہ بندی،نگرانی اور بروقت تکمیل کے نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔خصوصاً تربیلا توسیعی منصوبے کی ابتدائی لاگت کے مقابلے میں کئی گنا اضافی رقم کی منظوری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں ابتدائی تخمینوں،نگرانی اور عملدرآمد کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ایکنک کی جانب سے 16 منصوبوں کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت ایک جانب ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری جانب محدود مالی وسائل کے باعث منصوبوں کی ترجیحات،لاگت اور تکمیل کے نظام کو زیادہ موثر بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔