اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اجلاس میں ملکی معیشت،توانائی،انفرااسٹرکچر اور قومی اداروں سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ تعمیر کے حوالے سے یونین کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری کے علاوہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے)کے لیے 15 کروڑ 38 لاکھ 55 ہزار ڈالر کی حکومتی گارنٹی بھی منظور کرلی گئی۔
ایگزو نیوز کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کراچی کے کے-فور منصوبے کے لیے 7 ارب 79 کروڑ 71 لاکھ 60 ہزار روپے کی اضافی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ حکام کے مطابق مذکورہ رقم سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو منتقل کی گئی تھی،جسے منصوبے کی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اجلاس میں ریکوڈک منصوبے کی سکیورٹی سے متعلق ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا اور فرنٹیئر کور بلوچستان کے لیے 56 کروڑ 70 لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔یہ رقم وزارت خزانہ کی بچت سے فراہم کی جائے گی اور ریکوڈک منصوبے کی سکیورٹی سے متعلق اخراجات پر خرچ ہو گی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں گندم کے ذخائر کے موثر اور بروقت استعمال کے حوالے سے پاسکو کی تجویز بھی منظور کرلی۔
فیصلے کے مطابق پاسکو کے گندم سٹاک میں 85 فیصد مقامی جبکہ 15 فیصد درآمدی گندم شامل ہو گی،جس کا مقصد دستیاب ذخائر کو مناسب طریقے سے استعمال کرنا ہے۔اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے غیر ملکی سپلائرز کے اکاونٹ پر پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت دے دی جبکہ اس مقصد کے لیے کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج کی سہولت استعمال کی جائے گی۔توانائی کے شعبے میں پاکستان اور عمان کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے سیل اینڈ پرچیز معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔اس فیصلے کے تحت اوکیو ٹریڈنگ اور پاکستان سٹیٹ آئل کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگی۔
اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ تعمیر کے معاملے پر یونین کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹی کے قیام کی منظوری کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔اس اقدام کا مقصد ہوٹل کی مستقبل کی تعمیر و ترقی سے متعلق معاملات کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانا ہے۔دوسری جانب پی آئی اے کے لیے منظور کی جانے والی حکومتی گارنٹی قومی ایئرلائن کی مالی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر ای سی سی کے اجلاس میں انفرااسٹرکچر، توانائی،قومی اداروں،غذائی ذخائر اور اہم معدنی منصوبے کی سکیورٹی سے متعلق متعدد مالی اور انتظامی اقدامات کی منظوری دی گئی۔