اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی)نے ایک اہم اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اراکین قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات، بشمول شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے گوشوارے،مالی سال 2024-25 کے لیے 31 دسمبر 2025 تک لازمی طور پر جمع کرائیں۔ اعلامیہ کے مطابق یہ تفصیلات مقررہ فارم ’بی‘ پر فراہم کرنا ضروری ہے اور اس کے بغیر کسی رکن کی حیثیت مکمل تصور نہیں کی جائے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ مقررہ تاریخ یعنی 31 دسمبر تک گوشوارے جمع نہیں کراتا تو یکم جنوری کو اس کے نام الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ اور اعلامیہ میں شائع کر دیے جائیں گے۔مزید برآں، اگر مقررہ مدت گزرنے کے بعد بھی پندرہ جنوری تک اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیلات جمع نہ کرائی گئیں تو ایسے تمام اراکین کی رکنیت خود بخود معطل کر دی جائے گی۔معطلی کی صورت میں وہ نہ صرف ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہو سکیں گے بلکہ اپنی رکنیت کے دیگر حقوق اور مراعات سے بھی محروم ہو جائیں گے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ گوشوارے صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ شفافیت اور جوابدہی کا بنیادی حصہ ہیں۔اگر کوئی رکن اپنے اثاثوں یا واجبات کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا تو الیکشن کمیشن قانون کے مطابق سیکشن 137 کے تحت کارروائی کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔یہ کارروائی گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ سے 120 دن کے اندر کسی بھی وقت شروع کی جا سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں متعلقہ رکن کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اثاثوں اور واجبات کی بروقت اور درست تفصیلات فراہم کرنا عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ شفاف طرز حکمرانی اور عوامی اعتماد کی ضمانت ہے۔ الیکشن کمیشن نے تمام اراکین پر زور دیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر گوشوارے جمع کرا کے نہ صرف قانونی تقاضے پورے کریں بلکہ عوام کے سامنے اپنی دیانت اور شفافیت کا ثبوت بھی پیش کریں۔
اثاثے اور واجبات ظاہر کرنا لازمی،الیکشن کمیشن نے اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو 31 دسمبر تک کا الٹی میٹم دے دیا
6