سکردو(ایگزو نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج نے خطے کے سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کئی حلقوں میں برتری حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کی مضبوط پوزیشن نے انتخابی مقابلے کو انتہائی سنسنی خیز بنا دیا ہے۔متعدد حلقوں سے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کئی نشستوں پر ووٹوں کا فرق انتہائی کم ہے،جس کے باعث سیاسی جوڑ توڑ اور ممکنہ نتائج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے جبکہ تجزیہ کار اسے ایک کھلا اور غیر متوقع انتخابی معرکہ قرار دے رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔مجموعی طور پر 24 حلقوں پر ہونے والے انتخابات میں 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جبکہ اب تک متعدد حلقوں کے جزوی اور مکمل نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے کئی اہم نشستوں پر برتری حاصل کر لی ہے جبکہ مسلم لیگ ن،استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار بھی متعدد حلقوں میں سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔کچھ حلقوں میں ووٹوں کا فرق انتہائی کم ہونے کے باعث صورتحال دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔جی بی اے 7 سکردو ون،جی بی اے 4 نگر ون،جی بی اے 5 نگر ٹو اور جی بی اے 9 سکردو تھری سمیت کئی حلقوں میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بعض نشستوں پر آزاد امیدواروں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔
حلقہ جی بی اے 4 نگر ون کے تمام 53 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر نے 7670 ووٹ حاصل کرکے میدان مار لیا جب کہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب 6566 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ذولفقار علی مراد نے 2628 ووٹ لے کر میدان مار لیا جب کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے امید وار ریاض اکبر 2394 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ جی بی اے 7 سکردو 1 کے تمام 31 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 9 سکردو 3 کے تمام 54 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6270 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6240 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ جی بی اے 10 سکردو 4 کے تمام 51 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار راجہ ناصرعبداللہ 5680 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار خان وزیر 3409 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام 46 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق 7175 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5195 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
دوسری جانب گلگت، ہنزہ، استور اور دیامر کے مختلف حلقوں میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔جی بی اے 6 ہنزہ میں آزاد امیدوار نیک نام کریم کی برتری جبکہ جی بی اے 14 استور ٹو میں انتہائی قریبی مقابلہ سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے،جہاں ووٹوں کا فرق چند درجن تک محدود ہے۔انتخابی عمل کے دوران مجموعی طور پر پرامن صورتحال برقرار رہی جبکہ خواتین سمیت ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق نتائج کا حتمی اعلان مکمل گنتی کے بعد کیا جائے گا تاہم ابتدائی رجحانات سے واضح ہے کہ کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی اور کئی نشستوں پر مقابلہ آخری مرحلے تک جائے گا۔