Home » ادویات کی قیمتوں پر دو سال سے فیصلہ نہ ہوسکا،105 جان بچانے والی دوائیں مارکیٹ سے غائب

ادویات کی قیمتوں پر دو سال سے فیصلہ نہ ہوسکا،105 جان بچانے والی دوائیں مارکیٹ سے غائب

by ahmedportugal
24 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان میں اہم اور ضروری ادویات کی دستیابی کا بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جہاں 105 ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی سے متعلق حکومتی فیصلے میں دو سال سے زائد کی تاخیر کے باعث متعدد جان بچانے والی دواوں کی قلت رپورٹ ہوئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق فارماسیوٹیکل صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ادویات کو ہارڈ شپ کیٹیگری میں شامل کیا گیا تھا اور ان کی قیمتوں میں نظرثانی کے لیے سفارشات متعلقہ فورمز کی جانب سے حکومت کو ارسال کی جاچکی ہیں تاہم حتمی منظوری نہ ملنے کے باعث معاملہ طویل عرصے سے زیرالتوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر بعض ادویات کی تیاری دوا ساز کمپنیوں کے لیے معاشی طور پر مشکل ہوتی جارہی ہے۔پیداواری لاگت،خام مال اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باوجود قیمتوں پر نظرثانی نہ ہونے سے بعض کمپنیوں کے لیے ان مصنوعات کی مسلسل تیاری برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

صورت حال کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ قلت کا سامنا کرنے والی ادویات میں کینسر،امراض قلب،گلوکوما اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائیں بھی شامل ہیں۔ان میں شدید کینسر کے درد کے لیے استعمال ہونے والی اورل مارفین کیپسول،دل کے دورے کے علاج میں استعمال ہونے والا اسٹریپٹو کائنیز انجیکشن اور کیموتھراپی کی اہم ادویات شامل ہیں۔کیموتھراپی میں استعمال ہونے والی سسپلاٹن،کاربوپلاٹن اور ڈوکسی روبیسن جیسی ادویات کی دستیابی متاثر ہونے سے ایسے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے جو پہلے ہی مہنگے اور طویل علاج کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔اسی طرح بچوں کے لیے ڈائیگوکسن سیرپ،آنکھوں کے امراض کے علاج میں استعمال ہونے والے پائلوکارپین ڈراپس،یلو فیور ویکسین،فولک ایسڈ گولیاں اور مختلف اقسام کی امیونوگلوبیولن ادویات بھی قلت سے متاثر ہونے والی مصنوعات میں شامل بتائی گئی ہیں۔

پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بدانی نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اصل اور معیاری ادویات کی طویل قلت سے جعلی اور غیر قانونی ادویات کے کاروبار کو فروغ ملنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے،جب مریضوں کو مطلوبہ دوا معمول کے ذرائع سے دستیاب نہ ہو تو وہ متبادل اور بعض اوقات غیر معتبر ذرائع کا رخ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ایسی صورتحال میں جعلی،غیر معیاری یا غیر رجسٹرڈ ادویات کی سپلائی کا خطرہ خاص طور پر مہنگی کینسر کی ادویات اور دیگر حساس مصنوعات کے معاملے میں بڑھ جاتا ہے۔عبدالصمد بدانی کا کہنا ہے کہ ہارڈ شپ کیٹیگری میں شامل ادویات کے حوالے سے قیمتوں کے تعین اور نظرثانی کے لیے متعلقہ کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرچکی ہے تاہم مختلف ادوار میں فیصلے موخر ہونے کے باعث مسئلہ برقرار ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر دوا ساز اداروں کے لیے کسی ضروری دوا کی پیداوار میں بنیادی پیداواری لاگت بھی پوری نہ ہو تو کمپنیوں کے لیے اس کی مسلسل تیاری معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں رہتی۔ایسی صورتحال بالآخر مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہونے اور مریضوں کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 105 ضروری ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی سے متعلق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کی سفارشات پر فوری فیصلہ کیا جائے تاکہ دوا ساز اداروں کو پیداوار بحال کرنے اور مارکیٹ میں ادویات کی فراہمی یقینی بنانے میں سہولت مل سکے۔عبدالصمد بدانی نے زور دیا کہ ضروری ادویات کی قیمتوں سے متعلق پالیسی میں مریضوں کے لیے قابلِ برداشت قیمت اور دوا ساز صنعت کے لیے قابلِ عمل پیداواری لاگت کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہے،فیصلہ سازی میں مزید تاخیر ہوئی تو ادویات کی قلت کا مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ادویات کی بروقت دستیابی براہِ راست مریضوں کی صحت اور زندگی سے جڑی ہوئی ہے،اس لیے متعلقہ حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں نظرثانی کے زیرالتوا معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور جان بچانے والی ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز