اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات کے مشرقی علاقے فجیرہ میں واقع ایک اہم پیٹرولیم صنعتی تنصیب پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی ہے، جس سے علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ مقامی حکام اور میڈیا دفاتر کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ پورے علاقے میں سیکیورٹی کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم صورتحال ابھی مکمل طور پر کنٹرول میں نہیں آ سکی۔ واقعے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ فضائی آپریشنز کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کو ایران کی جانب سے ممکنہ ڈرون حملے سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس سے قبل بھی اماراتی دفاعی نظام نے میزائل اور ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔اماراتی نیشنل ایمرجنسی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے صورتحال کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی نظام مسلسل ممکنہ خطرات کی نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔فجیرہ کو توانائی اور تیل کی ترسیل کا ایک اہم عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی نوعیت کی بدامنی یا حملہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی توانائی سپلائی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی، صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔
یو اے ای میں پیٹرولیم تنصیب پر ڈرون حملہ،شدید آگ بھڑک اٹھی،سیکیورٹی ہائی الرٹ،ایمرجنسی نافذ
14