اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تعطل کا شکار سفارتی عمل کے درمیان پاکستان نے ایک بار پھر متحرک کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کو بچانے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے،جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا غیر معمولی سفارتی کردار عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔پس پردہ رابطوں اور اعتماد سازی کی کوششوں نے ایک نئی امید پیدا کر دی ہے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو قابو میں لایا جا سکتا ہے اور مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں جبکہ اس تمام عمل میں چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیرکو ایک غیر روایتی مگر مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،معروف برطانوی جریدے ”فنانشل ٹائمز“کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نہ صرف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہے بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ کاری کا اہم ذریعہ بھی بن رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پس پردہ سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات اس وقت شدید تناو کا شکار ہیں،جہاں باہمی عدم اعتماد،اقتصادی پابندیاں اور عسکری دباو نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ان حالات میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے،جو دونوں فریقین کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
”فنانشل ٹائمز“ کے مطابق پاکستان ان تمام رکاوٹوں کے باوجود سفارتی سطح پر متحرک ہے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے،اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے،جو روایتی عسکری کردار سے ہٹ کر ایک موثر سفارتی رابطہ کار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ کردار نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی تاہم موجودہ حالات میں مذاکرات کا تسلسل برقرار رکھنا ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔