اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مہنگائی کے دباو اور معاشی مشکلات کے اس دور میں وفاقی حکومت نے رمضان المبارک کے لیے ایک ایسا ریلیف ماڈل سامنے لانے کا اعلان کیا ہے جس کا محور صرف سستی اشیائے خورونوش نہیں بلکہ غریب کی عزتِ نفس کا تحفظ بھی ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کے واضح اور دوٹوک پیغام نے اس بحث کو نئی سمت دے دی ہے کہ ریاستی امداد خیرات نہیں بلکہ حق ہے۔یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے دہائیوں سے جاری بدنظمی اور بدعنوانی کے نظام کو دفن کر کے حکومت نے ڈیجیٹل، شفاف اور باوقار طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کیا ہے،جس کے تحت رمضان پیکج کو نہ صرف مزید وسعت دی جائے گی بلکہ ریلیف کی فراہمی کو یقینی اور جوابدہ بھی بنایا جائے گا۔آڈٹ رپورٹ کی کلین چِٹ اور ڈیجیٹل والٹس کا منصوبہ اس تبدیلی کو محض اعلان نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بناتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان پیکج اور گزشتہ سال کے رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا،جس میں حکومتی اقدامات کی شفافیت،موثریت اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں وزیراعظم نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک مستند اور عالمی شہرت یافتہ آڈٹ ادارے کی رپورٹ نے گزشتہ سال کے رمضان پیکج کو شفاف،موثر اور قابلِ اعتماد قرار دیا ہے،جو وفاقی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پرعوام کے اعتماد کی واضح عکاسی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں سے یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے جاری مالی بے ضابطگیوں،بد نظمی اور غریب عوام کے استحصال پر مبنی نظام کو حکومت نے ایک شفاف اور منظم ماڈل میں تبدیل کیا،جس کے تحت مستحق افراد کو ارزاں نرخوں پر اشیائے خورونوش کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ آنے والے رمضان المبارک کے لیے گزشتہ سال سے بھی زیادہ موثر،جامع اور عوام دوست پیکج تیار کیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ غریب اور سفید پوش طبقے کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد طویل عرصے تک اپنے حق سے محروم رہے تاہم موجودہ حکومت غریب عوام کی مالی معاونت اور سماجی تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان پیکج کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائے تا کہ مستحق افراد کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور شفافیت کو مزید فروغ ملے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام نہ صرف عوامی سہولت کا باعث بنے گا بلکہ کیش لیس معیشت کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل بھی ثابت ہو گا۔وزیراعظم نے رمضان پیکج کی تقسیم میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی شمولیت کو بھی خوش آئند قرار دیا۔وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ امدادی رقوم کی تقسیم میں مستحق افراد کے دائرہ کار کو ممکنہ حد تک وسیع کیا جائے اور ادائیگیوں کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع سفارشات جلد پیش کی جائیں۔انہوں نے موثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کی بھی ہدایت کی تا کہ شفافیت اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں کسی قسم کی مالی بدعنوانی یا سنگین انتظامی بدنظمی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔مزید بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سوشل پروٹیکشن والٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جا رہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم انہی سمز کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر منتقل کی جائیں گی،جس سے شفافیت اور سہولت میں مزید اضافہ ہوگا۔