Home » غیر ملکی خواتین کیس پر ہنگامہ خیز پریس کانفرنس، ڈی آئی جی فیصل کامران سخت سوالات پر اجلاس ادھورا چھوڑ کر روانہ

غیر ملکی خواتین کیس پر ہنگامہ خیز پریس کانفرنس، ڈی آئی جی فیصل کامران سخت سوالات پر اجلاس ادھورا چھوڑ کر روانہ

by ahmedportugal
10 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کیس پر ہونے والی ڈی آئی جی فیصل کامران کی پریس کانفرنس اس وقت شدید کشیدگی اور ہنگامہ خیزی کی صورت اختیار کر گئی جب صحافیوں نے پولیس کی کارکردگی،تفتیشی عمل، افسران کی ذمہ داری اور مبینہ دباو سے متعلق ایک کے بعد ایک سخت سوالات اٹھا دیے۔سوالات کے بڑھتے ہوئے دباو اور ماحول کی شدت کے باعث ڈی آئی جی فیصل کامران پریس کانفرنس مکمل کیے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے ڈی آئی جی فیصل کامران سے استفسار کیا کہ ان کی نگرانی میں ایس ایچ او کے ایک جج کے گھر جانے جیسے واقعے کی اخلاقی ذمہ داری کون قبول کرے گا اور کیا اس صورتحال میں استعفیٰ نہیں دیا جانا چاہیے؟۔اسی دوران ایک صحافی کی جانب سے یہ سوال بھی سامنے آیا کہ کیا انہیں نوکری سے نکالنے کے لیے ان کے دفتر تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔اس پر ڈی آئی جی فیصل کامران نے واضح کیا کہ ان کی طرف سے ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اور انہیں اسی مقصد کے تحت پریس کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے۔پریس کانفرنس میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب صحافیوں نے کیس کی تفتیش، پولیس کے کردار اور مبینہ اثر و رسوخ سے متعلق سوالات کا سلسلہ تیز کر دیا۔مختلف نکات پر بار بار سوالات کیے جانے کے باعث ماحول بوجھل ہوتا گیا اور بالآخر ڈی آئی جی نے مزید سوالات کے جواب دیے بغیر پریس کانفرنس ختم کرتے ہوئے روانگی اختیار کر لی۔

بعد ازاں غیر ملکی خواتین کے ہائی پروفائل کیس سے متعلق پولیس موقف اور تفتیشی پیش رفت کی تفصیلات سامنے آئیں،جن کے مطابق متاثرہ خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے اور تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جا رہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات میں متعدد اہم نکات سامنے آئے ہیں جن کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ڈی آئی جی فیصل کامران نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کیس کی فوری اور موثر تفتیش شروع کی گئی اور تمام شواہد کو قانونی طریقہ کار کے مطابق اکٹھا کیا گیا۔ان کے مطابق متاثرہ خواتین کی جانب سے فراہم کردہ معلومات، گاڑی کی ٹریسنگ اور ڈیجیٹل شواہد نے کیس کی تفتیش میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ مختلف شہروں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ملزمان کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا اور دونوں غیر ملکی خواتین کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ بعد ازاں سفارتی عمل کے تحت متعلقہ سفارتخانوں سے رابطہ کیا گیا اور خواتین کو قانونی تقاضوں کے مطابق واپس بھیجنے کے انتظامات مکمل کیے گئے۔پولیس کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک و ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز