اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک بھرپور اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا حلف لینے والے سیاسی مفادات نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کے پابند ہوتے ہیں، اس لیے سیاسی آقاوں کی خوشنودی یا پوائنٹ سکورنگ کے بجائے ملکی استحکام کو مقدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے اس موقع پر ایوان کے کسٹوڈین کو یقین دلایا کہ حکومت پوری طرح اسپیکر کے ساتھ کھڑی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران حکومتی رکن شمائلہ رانا نے اپوزیشن کے مبینہ ہتھکنڈوں کے خلاف قرارداد بھی پیش کی، جس نے ماحول کو مزید گرم کر دیا۔ اسی تناظر میں اعظم نذیر تارڑ نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ بنیادی غلطی تھی، اگر وہ پارلیمان میں رہتے تو آج معاملات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں اور اگر پاکستان آگے بڑھے گا تو بانی پی ٹی آئی کو بھی دوبارہ اقتدار کی امید ہو سکتی ہے۔وزیر قانون نے واضح کیا کہ گورنر راج کوئی غیر آئینی اقدام یا مارشل لا کی شکل نہیں بلکہ دستور میں موجود ایک باقاعدہ عمل ہے، جبکہ کسی سرکاری اہلکار یا ادارے پر حملہ آئین شکنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے ماضی کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، بے نظیر بھٹو کی شہادت، نواز شریف کی برطرفیاں—all یہ واقعات سیاسی قیادت کے صبر اور برداشت کے باوجود ہوئے، مگر انہوں نے اسلحہ اٹھا کر ریاستی اداروں پر حملہ کرنے کا راستہ کبھی اختیار نہ کیا۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ 2024 کے انتخابات پر 90 سے زائد پٹیشنز دائر کی گئیں، مگر ملک کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیلتے رہنا دانشمندی نہیں،ہمیں سوچنا ہوگا کہ نئی نسل کو کیا سبق دے رہے ہیں؟ دھمکیاں دینے سے ایوان فتح نہیں ہوتے، اور نہ ہی سیاسی جنگیں اس طرح جیتی جاتی ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ وزیراعظم شہباز شریف متعدد بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ سیاسی مسائل بیٹھ کر حل کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ اپوزیشن بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے بھی حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مشاورت بڑھانے کی ہدایت جاری کی، تاکہ پارلیمانی عمل کو مزید فعال اور موثر بنایا جا سکے۔
آئین کا راستہ چھوڑیں گے تو انتشار بڑھے گا،اعظم نذیر تارڑ کا ایوان میں دھواں دار خطاب،پی ٹی آئی پر کڑی تنقید
3