Home » گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی سے 1200 دکانیں جل کر راکھ،کمشنر کراچی نے وزیر اعلیٰ سندھ کو المناک المیے کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی

گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی سے 1200 دکانیں جل کر راکھ،کمشنر کراچی نے وزیر اعلیٰ سندھ کو المناک المیے کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی

by ahmedportugal
1 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ ہزاروں دکانداروں اور شہریوں کے خوابوں، یادوں اور روزگار کو بھی راکھ میں بدل دیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر ساوتھ نے اس المیے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی،جس میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں حادثہ رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان پیش آیا اور اس میں 1200 سے زائد دکانیں جل کر تباہ ہو گئیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں،10 واٹر باوزرز،4 اسنارکل گاڑیاں اور ریسکیو 1122 کی 33 ایمبولینسیں شامل ہوئیں،جس کے بعد تقریباً 60 سے 70 فیصد آگ پر قابو پایا جا سکا۔اس سانحے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 22 زخمی ہوئے،تمام زخمیوں کو سول ہسپتال کراچی کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا،جہاں ان کا علاج جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔انہوں نے کہا کہ شہید فائر فائٹر فرقان علی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر شہریوں کی حفاظت کی، اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی اور ضلعی انتظامیہ،پولیس اور ریسکیو اداروں کو ہدایت کی کہ آگ پر مکمل قابو پانے اور کولنگ کے عمل تک آپریشن جاری رکھا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے جانی نقصان کا شدید دکھ ہے،انتظامیہ اور پولیس اس بات کو یقینی بنائیں کہ آگ کے مکمل خاتمے اور صورتحال کے معمول پر آنے تک کام جاری رہے۔انہوں نے اس سانحے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم بھی دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاو کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے گا،تمام متعلقہ ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمیشہ الرٹ اور تیار رہیں اور سندھ حکومت تاجر برادری کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گی۔

اس سانحے نے ایک بار پھر کراچی کی تجارتی اور شہری زندگی میں حفاظتی انتظامات کی کمی،حکومتی نااہلی اور دیرینہ غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔شہر کے شہری اور تجارتی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا گزشتہ دہائیوں میں موثر اقدامات نہ کیے جانے کے سبب ایسے حادثات کو ٹالا جا سکتا تھا یا یہ تلخ حقیقت مسلسل دہرائی جائے گی۔معروف صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اس سانحے کو کراچی کی مسلسل نظر انداز کی جانے والی فائر سیفٹی،انتظامی ناکامیوں اور شہری نظم و نسق میں کمی کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر موثر حفاظتی اقدامات وقت پر کیے گئے ہوتے تو یہ المیہ ٹالا جا سکتا تھا۔گل پلازہ کی آتشزدگی نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ یہ شہر کے لیے ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ کراچی میں بڑے تجارتی مراکز کی حفاظت اور ایمرجنسی انتظامات میں تاخیر اور کوتاہی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ دکاندار، شہری اور صحافی سب اس واقعے کی شدت اور اس کے بعد ہونے والی حکومتی کارروائیوں کو دیکھ کر غم اور غصے میں ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز