کوپن ہیگن(ایگزو نیوز ڈیسک)ڈنمارک نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ورک پرمٹ کے بغیر کام کرنے کا نیا نظام متعارف کروا دیا ہے تا کہ بین الاقوامی کاروباری تقریبات،کانفرنسز اور تجارتی میلوں میں شرکت کرنے والے اہم عملے کے لیے انتظامی رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق نئے ضابطے کے تحت وہ غیر ملکی شہری جو ڈنمارک کے باہر کسی کمپنی کے ملازم ہوں اور کسی بین الاقوامی کاروباری ایونٹ کی ٹیم کا حصہ ہوں،دس دن تک بغیر ورک پرمٹ کے کام کر سکیں گے۔اس اقدام کا مقصد ایونٹ مینیجرز،پلانرز،ٹیکنیشنز،کمیونیکیشن اسپیشلسٹس اور دیگر اہم عملے کے لیے قانونی اور انتظامی سہولت فراہم کرنا ہے تا کہ بڑے کاروباری ایونٹس میں شرکت آسان ہو جائے۔قانون کے مطابق یہ استثنا صرف انڈور کاروباری تقریبات پر لاگو ہو گا، جن میں کم از کم 400 رجسٹرڈ شرکا موجود ہوں اور جو عام عوام کے لیے کھلے نہ ہوں۔یہ اجازت ایونٹ سے قبل کی تیاری،دورانِ انعقاد سرگرمیاں اور ایونٹ کے اختتام کے بعد کے انتظامی امور پر محیط ہوگی تا ہم یہ سہولت عوامی میلوں،کنسرٹس،آوٹ ڈور یا اوپن ایونٹس،فری لانسرز،مقامی طور پر بھرتی کیے گئے عملے یا غیر ضروری کرداروں پر لاگو نہیں ہو گی۔ان افراد کو ڈنمارک کے موجودہ ورک ویزا قوانین کے تحت اجازت حاصل کرنا ہو گی۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام ڈنمارک کی بین الاقوامی تجارتی اور کاروباری پوزیشن کو مضبوط کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے،کیونکہ اس سے عالمی سطح پر کانفرنسز اور تجارتی میلوں میں حصہ لینے والے پیشہ ور عملے کے لیے قانونی رکاوٹیں کم ہوں گی اور ڈنمارک میں ایونٹس کے انعقاد میں سہولت بڑھے گی۔یہ نیا نظام ڈنمارک کی کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے،غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے بھی اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔