لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے غیر فعال مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے قومی اسمبلی میں نو منتخب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے،جس میں انہوں نے انہیں اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ان کی پارلیمانی خدمات کو سراہا۔ اس رابطے کو ایسے وقت میں خاص اہمیت حاصل ہے جب ملک کی سیاست شدید عدم استحکام،پارلیمانی کشمکش اور اپوزیشن کی سمت کے حوالے سے سوالات کی زد میں ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے گفتگو کے دوران کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک سینئر، مدبر اور قابل احترام پارلیمنٹرین ہیں جن کا پارلیمانی سیاست میں طویل تجربہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری نیک شگون ہے اور ان کی قیادت میں اپوزیشن ایک مضبوط، مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔پی ٹی آئی کے مرکزی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ محمود خان اچکزئی جمہوری اقدار کے فروغ اور پارلیمان کے موثر کردار کے لیے فعال انداز میں کام کریں گےتاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کا یہ رابطہ محض رسمی مبارکباد نہیں بلکہ بدلتی ہوئی اپوزیشن سیاست میں نئی صف بندیوں کا عندیہ بھی ہو سکتا ہے۔
ناقدین کے مطابق موجودہ پارلیمانی صورتحال میں اپوزیشن خود اندرونی اختلافات، اعتماد کے فقدان اور واضح حکمت عملی کی کمی کا شکار ہے،ایسے میں اپوزیشن لیڈر کا کردار محض علامتی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہونا چاہیے۔سیاسی مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا محمود خان اچکزئی واقعی اپوزیشن کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر متحد کر سکیں گے یا یہ عہدہ بھی ماضی کی طرح بیانات اور علامتی مزاحمت تک محدود رہے گا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی،انتخابی شفافیت،آئینی بالادستی اور انسانی حقوق جیسے سنگین قومی مسائل پر اپوزیشن کی موثر آواز اب تک سامنے نہیں آ سکی،جس پر عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے محمود خان اچکزئی کی تقرری کو جمہوریت کے لیے مثبت قرار دینا بلاشبہ ایک خوش آئند پیغام ہے تاہم سیاسی حلقوں کے مطابق اصل امتحان اب بیانات سے آگے بڑھ کر عملی پارلیمانی مزاحمت،قانون سازی میں موثر کردار اور حکومت کو آئینی دائرے میں جوابدہ بنانے کا ہے۔آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ اپوزیشن کی نئی قیادت واقعی جمہوری نظام کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔