نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2025 کئی برسوں بعد پاکستان کے لیے عالمی توجہ کی واپسی، سٹریٹجک استحکام اور عسکری اعتماد کی بحالی کا سال ثابت ہوا، پاکستان کی عسکری قیادت نے نہ صرف ریاستی مفادات کا بھرپور دفاع کیا بلکہ انتہا پسندی کے خلاف واضح، دوٹوک اور فیصلہ کن موقف اپنا کر عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق معروف امریکی جریدے”دی ڈپلومیٹ“ نے اپنی تازہ رپورٹ میں آرمی چیف کی جانب سے یہ واضح اعلان کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، انتہا پسندی کے خلاف ایک اہم سنگِ میل قرار دیااور کہا کہ عسکری قیادت کے اس واضح وژن نے ریاستی رٹ کو مضبوط کیا اور نظم و ضبط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔امریکی میگزین کے مطابق مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپوں نے عالمی توجہ حاصل کی،بھارت کے خلاف پاکستانی افواج کی کارکردگی نے خطے میں عسکری توازن کو واضح کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان کی فوج موثر اور بھرپور ردِعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی فوجی کارکردگی نے داخلی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی سٹریٹجک ساکھ اور ڈیٹرینس کو مزید مضبوط کیا۔ بھارت کے خلاف کامیاب دفاعی حکمت عملی نے پاکستانی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جبکہ عالمی دفاعی ماہرین نے ان کامیابیوں کو سنجیدگی سے نوٹ کیا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کی عسکری کارکردگی کے نتیجے میں عالمی سطح پر اعتماد بحال ہوا اور ہندوستان کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارت کے واشنگٹن سے تعلقات دباو کا شکار رہے۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کو بڑی سٹریٹجک پیش رفت قرار دیا گیا،جہاں سعودی عرب کے ساتھ ایک بڑا دفاعی معاہدہ طے پایا۔ اس دفاعی تعاون نے خطے میں پاکستان کے کردار کو مزید مستحکم کیا جبکہ پاکستانی دفاعی سازوسامان کی عالمی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔دی ڈپلومیٹ نے کہا کہ چین جنگ کے دوران استعمال ہونے والے پاکستانی دفاعی ہتھیاروں کی عملی کارکردگی سے بے حد مطمئن نظر آیا،جس کے نتیجے میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی ایک سازگار عالمی ماحول تشکیل پایا۔غزہ سے متعلق عالمی سفارتی کوششوں میں بھی پاکستان کو ایک اہم فریق کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
افغانستان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے واضح اور مدلل موقف اپنایا اور ٹی ٹی پی کے خلاف اپنی پالیسی میں فیصلہ کن سختی لائی۔پاکستان نے قطر،ترکیے اور سعودی عرب کو ثالثی کردار میں شامل کر کے سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا،جس سے طالبان حکومت پر دباو میں اضافہ ہوا۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اندرونِ ملک نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں جبکہ مختلف ممالک کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے تعاون میں بھی اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا رہا تاہم اصلاحاتی اقدامات میں پیش رفت ہوئی۔انتہا پسندی کے خلاف موثر اقدامات کو ریاستی پالیسی کی نئی اور واضح علامت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو موجودہ عالمی فضا سے فائدہ اٹھا کر اصلاحات کا ایک نادر موقع حاصل ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں بعد ایک بڑی پیش رفت ہے جو ملکی معیشت کے لیے ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔