Home » قرضوں کا بوجھ مزید بڑھنے کا امکان،حکومت نے 7 ہزار 20 ارب روپے کے خسارے کی فنانسنگ کا منصوبہ بنا لیا

قرضوں کا بوجھ مزید بڑھنے کا امکان،حکومت نے 7 ہزار 20 ارب روپے کے خسارے کی فنانسنگ کا منصوبہ بنا لیا

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-28 کے وفاقی بجٹ میں 8 ہزار 20 ارب روپے کے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے فنانسنگ کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جبکہ وزارت خزانہ نے آئندہ تین سال کے لیے قرض کے انتظام سے متعلق حکمت عملی بھی وضع کردی ہے،جس کا بنیادی مقصد حکومتی مالی ضروریات کم سے کم لاگت اور محتاط خطرات کے ساتھ پوری کرنا اور ملکی قرضوں کی مدت کو بتدریج طویل کرنا ہے۔
سرکاری بجٹ دستاویز کے مطابق مالی سال 2028-27 میں وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 8 ہزار 20 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔اس خسارے کی مجموعی فنانسنگ کے لیے 9 ہزار 29 ارب روپے خالص ملکی ذرائع سے، 813 ارب روپے خالص بیرونی ذرائع سے اور 191 ارب روپے نجکاری سے حاصل ہونے والی متوقع آمدن سے پورا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یوں مجموعی وسائل میں خسارے کی فنانسنگ کے لیے 8 ہزار 20 ارب روپے کا انتظام کیا جائے گا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی دستاویزات کے مطابق حکومت کی مالی ضروریات میں ملکی قرضوں کا حصہ بدستور نمایاں رہے گا۔بجٹ میں بینکوں سے حکومتی تمسکات، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور صکوک سمیت مختلف مالیاتی ذرائع کے ذریعے رقم حاصل کرنے کا تخمینہ رکھا گیا ہے جبکہ قومی بچت اسکیموں اور دیگر ذرائع سے بھی ملکی فنانسنگ کا حصہ حاصل کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کی تین سالہ قرض حکمت عملی مالی سال 2027 سے 2028 تک کے عرصے کے لیے مرتب کی گئی ہے۔سرکاری حکمت عملی کے مطابق حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے کی لاگت کو ممکنہ حد تک کم رکھا جائے جبکہ شرح سود،زرِ مبادلہ اور دوبارہ قرض لینے کے خطرات کو بھی قابو میں رکھا جائے۔حکومت نے اپنی قرض حکمت عملی میں مختصر مدت کے نسبتاً مہنگے قرضوں پر انحصار کم کرنے اور طویل مدت کے مقررہ شرح سود والے مالیاتی آلات کا حصہ بڑھانے کو اہم ترجیح قرار دیا ہے۔اس مقصد کے لیے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور صفر شرح منافع والے مخصوص بانڈز کے اجرا میں اضافے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ قرضوں کی مدت طویل ہو اور بار بار قرض کی تجدید کی ضرورت کم ہوسکے۔حکمت عملی کے مطابق حکومت خزانے پر فوری مالی دباو کم کرنے کے لیے قلیل مدتی قرضوں اور متغیر شرح سود والے قرضوں پر انحصار محدود رکھنا چاہتی ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ طویل المدتی مقررہ شرح والے قرضوں کی طرف منتقلی سے شرح سود میں اچانک اتار چڑھاو اور قرضوں کی دوبارہ مالی معاونت سے متعلق خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اسلامی مالیاتی ذرائع کو بھی نئی قرض حکمت عملی میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق شرعی اصولوں کے مطابق مالیاتی آلات اور صکوک کے اجرا میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے مالیاتی ذرائع کا دائرہ وسیع ہو اور غیر بینکاری سرمایہ کار بھی حکومتی قرض مارکیٹ میں زیادہ موثر انداز میں شریک ہوسکیں۔حکومت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ قرض کے لیے صرف بینکوں پر انحصار کم کرکے پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں،اثاثہ جاتی انتظامی اداروں اور دیگر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھائی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنے سے ملکی قرض مارکیٹ میں گہرائی پیدا ہوگی اور حکومت کو مختلف حالات میں مالی وسائل حاصل کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔بیرونی فنانسنگ کے حوالے سے حکومت نے کثیرالجہتی اور دوطرفہ ذرائع سے طویل المدتی اور نسبتاً آسان شرائط پر قرض حاصل کرنے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی کے لیے پانڈا بانڈز،یورو بانڈز اور پائیدار مالیاتی بانڈز جیسے ذرائع بھی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی قرضوں کے معاملے میں زرِ مبادلہ کے خطرے کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔مختلف کرنسیوں میں مالی وسائل کے ذرائع کو متنوع بنانے اور ملکی و بیرونی قرضوں کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ کسی ایک ذریعے یا کرنسی پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ ہو۔حکومت کی مالی ضروریات کا بڑا حصہ قرضوں کے ذریعے پورا کیے جانے کی بنیادی وجہ وفاقی بجٹ میں موجود آمدن اور اخراجات کا فرق ہے۔ مالی سال 2027-28 کے بجٹ میں وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن کے مقابلے میں اخراجات زیادہ رکھے گئے ہیں،جس کے نتیجے میں وفاقی مالی خسارہ 8 ہزار 20 ارب روپے متوقع ہے،جو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 3.7 فیصد کے برابر بنتا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ خالص وفاقی آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔اس فرق کے علاوہ دیگر وسائل،جن میں غیر بینکاری قرض، بیرونی وصولیاں، بینک فنانسنگ اور نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم شامل ہے، مجموعی مالی وسائل کی تشکیل میں استعمال ہوں گے۔بجٹ میں غیر بینکاری ذرائع سے 2 ہزار 34 ارب روپے،خالص بیرونی وصولیوں سے 813 ارب روپے،بینکوں سے حکومتی تمسکات کے ذریعے 4 ہزار 12 ارب روپے اور نجکاری سے 191 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ رکھا گیا ہے۔ان تمام ذرائع کو ملا کر 8 ہزار 20 ارب روپے کے مالی خسارے کی فنانسنگ کا انتظام کیا جائے گا۔وزارت خزانہ کی قرض حکمت عملی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حکومت قرضوں کے مجموعی خطرات کو کم کرنے کے لیے قرض کی مدت بڑھانے، مقررہ شرح سود والے مالیاتی آلات میں اضافہ کرنے اور مختصر مدت کے قرضوں کی ضرورت محدود کرنے کی کوشش کرے گی۔اس حکمت عملی کا مقصد صرف مزید قرض حاصل کرنا نہیں بلکہ قرضوں کے مجموعی ڈھانچے کو اس انداز میں تبدیل کرنا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ قرض لینے اور شرح سود میں اتار چڑھاو سے پیدا ہونے والے مالی دباو کو کم کیا جاسکے۔

وزارت خزانہ کے مطابق قرض حکمت عملی پر عملدرآمد ملکی و عالمی معاشی حالات،عالمی مالیاتی منڈیوں،جغرافیائی سیاسی صورتحال اور حکومت کی مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی صلاحیت سے مشروط ہوگا۔عالمی شرح سود،زرِ مبادلہ کی قدر اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلیاں حکومت کے لیے بیرونی قرض کے حصول کی لاگت اور دستیابی کو متاثر کرسکتی ہیں۔حکومت کی جانب سے طویل المدتی قرضوں کی طرف منتقلی اور مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی اور اس پر عائد مالی لاگت بدستور بڑے اخراجاتی شعبوں میں شامل ہے۔ مالی سال 2027-28 کے بجٹ میں سودی ادائیگیوں کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،جو وفاقی اخراجات میں قرضوں کے مالی بوجھ کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

وزارت خزانہ کی جانب سے قرض کے انتظام کے لیے مرتب کی گئی نئی حکمت عملی میں مالیاتی منڈی کو مزید وسیع کرنے،غیر بینکاری سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، اسلامی مالیاتی آلات کا دائرہ بڑھانے اور بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں تک رسائی کے مختلف راستے برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق حکومت قرضوں کی لاگت اور خطرات میں توازن قائم کرتے ہوئے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔یوں مالی سال 2027-28 میں 8 ہزار 20 ارب روپے کے وفاقی مالی خسارے کی فنانسنگ اور مالی سال 2027 سے 2028 تک کی قرض حکمت عملی حکومت کے آئندہ مالیاتی انتظام کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ سرکاری منصوبے میں فوری مالی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ قرضوں کی مدت طویل کرنے،مختصر مدت کے قرضوں پر انحصار گھٹانے اور مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے پر توجہ دی گئی ہے تاہم اس حکمت عملی کے عملی نتائج عالمی معاشی حالات،ملکی مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں کی لاگت میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی متاثر ہوں گے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز