اندلوسیا (ایگزو نیوز ڈیسک)سپین کے جنوبی علاقے اندلوسیا میں شدید گرمی اور تیز ہواوں کے باعث بھڑکنے والی مہلک جنگلاتی آگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی،جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں اور صورتحال بدستور خطرناک ہے،جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں آگ پر قابو پانے اور متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سپین کے جنوبی علاقے اندلوسیا میں بھڑکنے والی ہولناک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی اور لاپتا ہو گئے ہیں،حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔علاقائی صدر خوانما مورینو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے صورتحال کو نہایت سنگین قرار دیا ہے۔آگ صوبہ المیریا کے علاقے لوس گایاردوس کے قریب این-340 شاہراہ کے اطراف بھڑکی،جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق ممکنہ طور پر بجلی کی تار گرنے سے خشک جھاڑیوں میں آگ لگی،جو تیز ہواوں کے باعث تیزی سے پھیلتی ہوئی قریبی علاقوں بیڈار اور دیگر آبادیوں تک جا پہنچی۔آگ کی شدت اور رفتار کے باعث متعدد افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل ہونے کا موقع نہ مل سکا۔حکام کے مطابق 11 افراد کی لاشیں بیڈار نامی گاوں اور اس کے اطراف سے برآمد ہوئیں جبکہ کچھ افراد گاڑیوں میں پھنسے ہوئے پائے گئے جو بظاہر جان بچانے کی کوشش میں تھے۔ایک گاڑی میں موجود چار افراد کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ برطانوی نژاد تھے،کیونکہ گاڑی کا سٹیئرنگ دائیں جانب تھا۔مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی شہری شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اندلوسیا کے وزیر صحت و ہنگامی امور انتونیو سانز کے مطابق آگ غیر معمولی تیزی سے پھیلی جس کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی پیچیدہ ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ متعدد افراد مختلف مقامات پر مردہ حالت میں پائے گئے جہاں وہ آگ سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔آگ پر قابو پانے کے لیے 300 سے زائد ہنگامی اہلکار،جن میں فائر فائٹرز،فوجی دستے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں،مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں۔سپین کی ملٹری ایمرجنسی یونٹ کے ماہر اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق ایک ہزار کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ شدید دھوئیں اور خطرناک صورتحال کے باعث متعدد اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔زخمیوں میں ایک شخص کو دھوئیں کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔
سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس سانحے سے قبل ہی اعلان کیا تھا کہ ملک رواں سال شدید گرمی کی لہر کے باعث جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ہنگامی ردعمل نافذ کرے گا۔حکام کے مطابق یہ واقعہ اندلوسیا کی تاریخ کی مہلک ترین جنگلاتی آتشزدگیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔واقعے کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی شواہد بجلی کی گرتی ہوئی تاروں کو اس سانحے کا ممکنہ سبب قرار دے رہے ہیں جبکہ شدید گرمی اور تیز ہواوں نے آگ کو مزید بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا۔