اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)بلوچستان کے ضلع دالبندین کے قریب پیش آنے والے ہولناک ٹریفک حادثے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا،جہاں ایک تیز رفتار ٹریلر نے مسافر گاڑی کو بری طرح کچل دیا،نتیجتاً 11 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے،واقعے نے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کو جنم دیا بلکہ بلوچستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی سنگینی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق دالبندین کے قریب پیش آنے والے ہولناک ٹریفک حادثے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا،جہاں تیز رفتار ٹریلر نے ایک مسافر گاڑی کو ٹکر مار کر بری طرح کچل دیا،جس کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 4 شدید زخمی ہو گئے۔حادثہ آر سی ڈی شاہراہ این 40 پر ڈھڈرلانڈھی کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب مخالف سمتوں سے آنے والی گاڑیاں اچانک آمنے سامنے آ گئیں اور ٹریلر کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا۔حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار افراد بری طرح پھنس کر رہ گئے،جنہیں نکالنے کے لیے مقامی افراد اور امدادی ٹیموں کو طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال دالبندین منتقل کیا،جہاں زخمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹریلر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹریلر کوئٹہ سے تفتان جبکہ متاثرہ گاڑی تفتان سے کوئٹہ کی جانب رواں دواں تھی۔ حادثے کے بعد شاہراہ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی تاہم مقامی انتظامیہ نے امدادی سرگرمیاں مکمل کر کے راستہ بحال کر دیا۔یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بھی بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں مسافر کوچ کھائی میں گرنے سے 8 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے،جس سے صوبے میں ٹریفک حادثات کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش مزید گہری ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ بلوچستان میں تیز رفتاری،سڑکوں کی خراب حالت اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی کمی ایسے المناک حادثات کی بڑی وجوہات ہیں،جن پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔