غزہ(ایگزو نیوز ڈیسک)غزہ میں اسرائیلی حملوں اور طوفان بائرن نے انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 فلسطینیشہیدور متعدد زخمی ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق طوفان کے باعث غزہ میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 2 فلسطینی شہید ہوئے۔شمالی غزہ کے علاقے بیر النعاجہ میں ایک مکان کے گرنے سے 5 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ غزہ شہر کے رمال محلے میں دیوار گرنے سے مزید 2 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شدید سردی اور طوفان کے اثرات نے شاطی کیمپ اور المواسی کے رہائشی علاقوں میں خطرہ بڑھا دیا، جہاں متعدد بچے لقمہ اجل بن گئے۔ خان یونس میں 8 ماہ کی بچی بارش کے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئی۔غزہ حکام کے مطابق طوفان بائرن سے تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار افراد خطرے میں ہیں اور مسلسل محاصرے کے سبب بے گھر خاندانوں کی مشکلات اور شدت اختیار کر گئی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 70 ہزار 654 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 71 ہزار 95 ہو چکی ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دے دی، جس سے فلسطینی علاقوں میں اضافی تنازعات اور بین الاقوامی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس اقدام کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔غزہ میں حالیہ دنوں کے اسرائیلی حملے، طوفان بائرن کی تباہ کاری اور شدید سردی کے اثرات نے انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری نے فوری انسانی امداد اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
شدید طوفان اور اسرائیلی بمباری،16 فلسطینی شہید،غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا
5