کوٹلی(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر کے انتخابی مرحلے کے دوران کوٹلی کے حلقہ ایل اے 9 میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے سیاسی ماحول کو کشیدہ بنا دیا ہے،جہاں ایک سیاسی کارکن کی ہلاکت کے بعد الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے واقعے کی ذمہ داری مسلم لیگ ن کے امیدوار پر عائد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے جبکہ دوسری جانب ن لیگ کی جانب سے واقعے کو محدود نوعیت کا قرار دیتے ہوئے مجموعی انتخابی عمل کو پرامن اور منظم بتایا جا رہا ہے۔اس صورتحال نے نہ صرف انتخابی شفافیت بلکہ سیکیورٹی انتظامات پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور عوامی و سیاسی حلقوں کی نظریں اب تحقیقات اور نتائج پر مرکوز ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 9 کوٹلی میں انتخابی عمل کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے سیاسی ماحول کو کشیدہ بنا دیا ہے،جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن مختار یونس کی ہلاکت کے بعد الزام تراشی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار عمیر نعیم کی جانب سے کی گئی۔انہوں نے اس معاملے پر متعلقہ حکام اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دو روز قبل بھی اسی امیدوار کی جانب سے مبینہ فائرنگ کی ویڈیو سامنے آئی تھی،جس پر اگر فوری نوٹس لیا جاتا تو آج ایک قیمتی جان ضائع نہ ہوتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مخالفین شکست کے خوف سے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں،جو جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ان کی جماعت کا ایک کارکن جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جس کی ذمہ داری مسلم لیگ ن کے کارکنوں پر عائد ہوتی ہے ۔دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے واقعے کو ایک افسوسناک مگر محدود نوعیت کا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں پولنگ کا عمل پرامن اور منظم رہا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک واقعے کے علاوہ کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور سکیورٹی سمیت انتخابی انتظامات تسلی بخش تھے۔واقعے کے بعد حلقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا عندیہ دیا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف انتخابی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ نتائج سے قبل سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ کر دیا ہے،جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔