کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)شہر قائد میں جاری شدید گرمی کی لہر نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے، جہاں صرف دو روز کے دوران چودہ افراد جان کی بازی ہار گئے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور لو جیسی صورتحال نے شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق اموات کی بڑی وجہ ہیٹ سٹروک اور گرمی کی شدت قرار دی جا رہی ہے۔
ایگز ونیوز کے مطابق کراچی میں شدید گرمی کی لہر نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے،جہاں مختلف علاقوں سے مزید آٹھ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد گزشتہ دو روز میں اموات کی تعداد چودہ تک جا پہنچی ہے۔ریسکیو اور فلاحی اداروں کے مطابق ان ہلاکتوں کی ممکنہ وجہ شدید گرمی اور لو لگنا بتائی جا رہی ہے،جس نے شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں سے ملنے والی لاشوں میں کلفٹن بوٹ بیسن کے قریب ایک ساٹھ سالہ شخص،لیاقت آباد نمبر دس پل کے نیچے سے پچاس سالہ شہری اور سپر ہائی وے جمالی پل کے قریب سے پینتالیس سالہ شخص شامل ہیں۔اسی طرح سرجانی ٹاون اور بلدیہ ٹاون سے بھی دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ دیگر لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد سرد خانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر اموات گرمی کی شدت اور ہیٹ سٹروک کے باعث ہوئیں۔شہر میں بڑھتی ہوئی گرمی نے نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں درجہ حرارت چوالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا جبکہ گرم اور خشک ہواوں کے باعث لو جیسی کیفیت نے شدت اختیار کر لی۔کم نمی کے باعث موسم مزید خشک اور ناقابل برداشت ہو گیا ہے،جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت میں معمولی کمی کا امکان ہے تاہم آنے والے دنوں میں ایک اور شدید گرمی کی لہر کے خدشات موجود ہیں،جو صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔طبی ماہرین نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں،پانی اور مشروبات کا زیادہ استعمال کریں اور ہیٹ سٹروک سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔