اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)یبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک بار پھر دہشت گردی کی لرزہ خیز واردات نے علاقے کو سوگوار کر دیا،جہاں سرائے نورنگ بازار میں ہونے والے خونریز دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد شہید جبکہ 42 سے زائدزخمی ہو گئے۔حکام کے مطابق دھماکہ موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد کے ذریعے کیا گیا،جس سے بازار میں موجود افراد زد میں آ گئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ بازار میں ہونے والے ایک ہولناک دھماکے نے علاقے کو سوگوار کر دیا،جہاں موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد کے پھٹنے سے پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 42 افراد زخمی ہو گئے۔واقعہ کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں اور سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق دھماکہ ایک موٹر سائیکل میں نصب دیسی ساختہ بارودی مواد کے ذریعے کیا گیا،جسے مصروف بازار کے درمیان دھماکے سے اڑا دیا گیا۔اس افسوسناک واقعے میں ابتدائی طور پر سات افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی تاہم بعد ازاں زخمیوں میں سے بعض کے دم توڑ جانے کے باعث شہدا کی تعداد میں اضافہ ہوا۔شہدا میں دو ٹریفک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نذیر خان کے مطابق دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر متعلقہ ادارے موقع پر موجود ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔دوسری جانب بنوں کے علاقے فتح خیل میں نامعلوم افراد کی جانب سے ایک پل کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
متعلقہ حکام کے مطابق پل کا ملبہ ہٹانے اور راستہ بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔واقعے پر صوبائی قیادت نے شدید ردعمل دیتے ہوئے مذمت کی ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی بھی کیا گیا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم جانوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور امن کے قیام کے لیے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔مقامی آبادی میں اس واقعے کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔