سڈنی(ایگزو نیوز ڈیسک)آسٹریلیا کے سٹار کرکٹر ڈیوڈ وارنر کو شراب پی کر گاڑی چلانے کے مقدمے میں قانونی مشکلات کا سامنا ہے،جہاں انہوں نے عدالت میں اپنا جرم تسلیم کرلیا ہے۔اس پیش رفت کے بعد ان کی ڈومیسٹک ٹیم سڈنی تھنڈر کی قیادت بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے جبکہ کرکٹ حکام نے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا عندیہ دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آسٹریلیا کے معروف کرکٹر ڈیوڈ وارنر ایک قانونی معاملے کے باعث مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں،جہاں انہوں نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے الزام میں عدالت میں اپنا جرم تسلیم کرلیا ہے۔اس پیش رفت کے بعد نہ صرف ان کے قانونی مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ ان کی ڈومیسٹک ٹیم سڈنی تھنڈر کی کپتانی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔سابق آسٹریلوی اوپننگ بلے باز کی جانب سے ان کے وکیل بوبی ہِل نے بدھ کے روز سڈنی کی مقامی عدالت میں جرم قبول کیا جبکہ 39 سالہ وارنر خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔یہ واقعہ رواں سال اپریل میں پیش آیا تھا،جب سڈنی پولیس نے انہیں گاڑی چلاتے ہوئے روکا تھا۔پولیس کے مطابق ڈیوڈ وارنر نے مبینہ طور پر ایک نالے کے قریب گاڑی روکنے کی کوشش کی تاہم پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔بعد ازاں پولیس سٹیشن میں کیے گئے سانس کے معائنے کے دوران ان کے جسم میں الکحل کی مقدار آسٹریلیا میں مقررہ قانونی حد سے دو گنا سے بھی زیادہ پائی گئی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وارنر کے وکیل بوبی ہِل نے کہا کہ کرکٹر نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے مکمل ذمہ داری قبول کی ہے،وارنر نے ایک دوست کے گھر تین گلاس وائن پی تھی اور آخری گلاس پینے کے تقریباً 11 منٹ بعد خود گاڑی چلا کر گھر جانے کا فیصلہ کیا،جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وارنر کو اس صورتحال میں متبادل انتظام،جیسے ٹیکسی یا کسی اور ذریعے سے سفر کرنا چاہیے تھا تاہم انہوں نے غلط فیصلہ کیا جس کا انہیں احساس ہے۔عدالت اس مقدمے میں حتمی فیصلہ 18 اگست کو سنائے گی۔آسٹریلوی قوانین کے تحت شراب پی کر گاڑی چلانے کے جرم میں پہلی مرتبہ بھی جرمانہ، ڈرائیونگ لائسنس کی معطلی اور بعض حالات میں نو ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ اس معاملے نے ڈیوڈ وارنر کی کرکٹ قیادت پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔آسٹریلوی کرکٹ ادارے سڑکوں پر محفوظ ڈرائیونگ کے حوالے سے سخت پالیسی رکھتے ہیں اور شراب نوشی کے بعد گاڑی چلانے کے عمل کی مخالفت کرتے ہیں۔کرکٹ نیو ساوتھ ویلز کے چیف ایگزیکٹو لی جرمن نے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ الزامات انتہائی تشویش کا باعث ہیں اور ادارہ انہیں سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ نیو ساوتھ ویلز محفوظ ڈرائیونگ کا مضبوط حامی ہے اور شراب پی کر گاڑی چلانے کے عمل کی حمایت نہیں کرتا۔
ڈیوڈ وارنر کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ انہیں 2024 کے اختتام پر دوبارہ آسٹریلوی کرکٹ میں قیادت کے کردار کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2018 کے کیپ ٹاون بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے ان پر قیادت کی تاحیات پابندی عائد کی تھی، تاہم بعد میں یہ پابندی ختم کردی گئی تھی۔اب سڈنی تھنڈر اور کرکٹ نیو ساوتھ ویلز کے حکام عدالت کے فیصلے کے بعد وارنر کے مستقبل اور ٹیم کی قیادت سے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔ڈیوڈ وارنر آسٹریلیا کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنے شاندار کیریئر میں کئی ریکارڈز اور اعزازات حاصل کیے، تاہم تازہ قانونی تنازع نے ان کے کھیل سے باہر کی ساکھ اور قیادت کے مستقبل کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔