اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج جاری کر دیے ہیں،جن میں ایک بار پھر مقابلے کے اس سخت ترین امتحان کی غیر معمولی نوعیت سامنے آ گئی ہے۔نتائج کے مطابق کامیابی کی مجموعی شرح صرف 2.67 فیصد رہی جبکہ ہزاروں امیدوار ناکامی سے دوچار ہوئے اور صرف 355 امیدوار ہی تحریری امتحان میں کامیاب قرار پائے،جس نے سول سروسز میں شمولیت کے لیے جاری سخت مقابلے کی شدت کو واضح کر دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی)نے سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے،جس کے بعد ایک بار پھر مقابلے کے اس سخت ترین امتحان کی حقیقت سامنے آ گئی ہے،جہاں کامیابی کی مجموعی شرح صرف 2.67 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔یہ شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں انتہائی کم قرار دی جا رہی ہے،جس نے امیدواروں اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔اس سال مجموعی طور پر 12 ہزار 792 امیدواروں نے امتحان میں حصہ لیا، تاہم ان میں سے صرف 355 امیدوار ہی تحریری امتحان میں کامیاب ہو سکے۔بعد ازاں کمیشن نے مختلف مراحل کے بعد 170 امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی،جن میں 84 مرد اور 86 خواتین شامل ہیں۔
نتائج کے مطابق اسد رفیق نے پہلی پوزیشن حاصل کی،محمد محسن خالد دوسرے نمبر پر جبکہ طارق حفیظ تیسرے نمبر پر رہے۔ٹاپ 30 پوزیشن ہولڈرز کی الاٹمنٹ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس میں کی گئی ہے تاہم حیران کن طور پر ان میں سے کسی بھی امیدوار کو فارن سروس آف پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق ٹاپ 30 امیدواروں میں سے 23 کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا سے 2، 2 اور بلوچستان سے 3 امیدوار شامل ہیں،جو ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی کارکردگی کے فرق کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق CSS کا یہ نتیجہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ یہ امتحان نہایت سخت اور مسابقتی ہے،جہاں کامیابی حاصل کرنا صرف محنت نہیں بلکہ مسلسل تیاری اور مضبوط تعلیمی بنیاد کا تقاضا کرتا ہے۔