Home » کرکٹ کا عظیم ترین آل راونڈر دنیا سے رخصت،سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

کرکٹ کا عظیم ترین آل راونڈر دنیا سے رخصت،سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

by ahmedportugal
10 views
A+A-
Reset

کنگسٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راونڈرز میں شمار ہونے والے ویسٹ انڈین لیجنڈ سر گارفیلڈ سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے،جس کے ساتھ عالمی کرکٹ کا ایک درخشاں باب اختتام کو پہنچ گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ویسٹ انڈیز کرکٹ نے لیجنڈ سر گارفیلڈ سوبر کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی تاہم گیری سوبرز کی خدمات اور یادگار کارنامے ہمیشہ کرکٹ کے شائقین کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔سر گارفیلڈ سوبرز،جنہیں دنیا بھر میں گیری سوبرز کے نام سے جانا جاتا تھا،محض ایک شاندار بلے باز یا بہترین بولر نہیں بلکہ کرکٹ کے تینوں شعبوں میں غیر معمولی مہارت رکھنے والے مکمل آل راونڈر تھے۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ، مختلف انداز کی بولنگ اور شاندار فیلڈنگ کی صلاحیت نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کے منفرد ترین کھلاڑیوں میں شامل کیا۔

گیری سوبرز نے اپنے دو دہائیوں پر مشتمل شاندار کیریئر میں ایسے کئی ریکارڈ قائم کیے جو آج بھی کرکٹ کے سنہرے صفحات کا حصہ ہیں۔وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کم عمر ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز کا اعزاز آج بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے 1954 سے 1974 تک ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچ کھیلے، جن میں 57.78 کی شاندار اوسط سے 8 ہزار 32 رنز بنائے اور 235 وکٹیں حاصل کیں۔وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 8 ہزار رنز مکمل کرنے والے تیز ترین بلے بازوں میں شامل رہے،ان کا یہ ریکارڈ طویل عرصے تک ناقابلِ شکست رہا۔1958 میں پاکستان کے خلاف گیری سوبرز نے صرف 21 برس کی عمر میں ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی،جو اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی۔ یہ ریکارڈ بعد میں ویسٹ انڈیز کے ہی عظیم بلے باز برائن لارا نے توڑا تاہم کم عمر ترین ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز آج بھی سوبرز کے پاس ہے۔

گیری سوبرز کا ایک اور تاریخی کارنامہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور کی تمام چھ گیندوں پر چھ چھکے لگانا تھا۔انہوں نے یہ اعزاز ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے گلیمورگن کے خلاف حاصل کیا،جو آج بھی کرکٹ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔بولنگ کے شعبے میں بھی گیری سوبرز اپنی مثال آپ تھے۔وہ بائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کے ساتھ ساتھ آرتھوڈوکس سپن اور چائنا مین سپن کروانے کی صلاحیت رکھتے تھے،جو انہیں اپنے دور کے دیگر کھلاڑیوں سے ممتاز بناتی تھی۔فیلڈنگ میں بھی ان کی مہارت غیر معمولی تھی اور انہوں نے 93 ٹیسٹ میچوں میں 109 کیچز پکڑے۔

گیری سوبرز نے کم عمری میں ہی کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا۔وہ صرف 16 برس کی عمر میں بارباڈوس کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے لگے جبکہ 17 برس کی عمر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بن گئے۔اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں انہوں نے 28 ہزار سے زائد رنز بنائے اور ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے انہیں نائٹ ہڈ سے نوازا اور وہ ”سر گارفیلڈ سوبرز“ کہلائے۔وہ ویسٹ انڈیز کے کامیاب کپتان بھی رہے،جن کے دور میں ٹیم عالمی کرکٹ میں ناقابلِ شکست قوت تصور کی جاتی تھی۔

کرکٹ کی دنیا کے بڑے ناموں نے گیری سوبرز کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ سمیت دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کھیل کا عظیم سفیر قرار دیا۔معروف کرکٹ جریدے وزڈن کی جانب سے 20ویں صدی کے عظیم ترین کرکٹرز کے انتخاب میں گیری سوبرز دوسرے نمبر پر رہے جبکہ عظیم بلے باز سر ڈونلڈ بریڈمین نے بھی انہیں کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا تھا۔بارباڈوس نے بھی گیری سوبرز کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔انہیں ملک کے قومی ہیروز میں شامل کیا گیا جبکہ ان کے نام پر قائم ”سر گارفیلڈ سوبرز سپورٹس کمپلیکس“ ان کی عظمت کا اعتراف ہے۔سر گیری سوبرز کا انتقال صرف ایک عظیم کھلاڑی کی رخصتی نہیں بلکہ کرکٹ کے ایک ایسے عہد کا اختتام ہے جس میں مہارت،کھیل کی روح اور غیر معمولی صلاحیتوں کا حسین امتزاج نظر آتا تھا۔ان کے ریکارڈز،کارنامے اور کھیل سے محبت آنے والی نسلوں کیلئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز