یوٹیوب نے اپنی مونیٹائزیشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے، جو 15 جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گی۔ نئی پالیسی کا مقصد غیر مستند، دہرائے گئے اور مصنوعی ذہانت (AI) سے بنے مواد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ یہ اقدام اُن کریئیٹرز کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جو اپنی ویڈیوز میں اصل اور تخلیقی مواد کے بجائے ٹیمپلیٹس یا AI ٹولز کا استعمال کرتے ہیں۔
یوٹیوب کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پلیٹ فارم ان ویڈیوز کو نشانہ بنائے گا جو دوسروں کے مواد کی نقل پر مبنی ہوں یا جنہیں صرف معمولی ترمیم کے بعد نئے انداز میں پیش کیا گیا ہو۔ اگرچہ یوٹیوب نے “غیر مستند” یا “دہرائے گئے” مواد کی کوئی حتمی تعریف فراہم نہیں کی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی خاص طور پر ان چینلز کو متاثر کرے گی جو بغیر چہرے کے گیمنگ ویڈیوز، مصنوعی آوازوں یا مکمل AI سے تیار کردہ کرداروں پر انحصار کرتے ہیں۔
اس پالیسی میں AI کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس اپ ڈیٹ سے واضح ہے کہ مکمل طور پر AI پر مبنی کانٹینٹ کی مونیٹائزیشن مشکل ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر نہ صرف ان ٹولز کی مقبولیت پر پڑے گا بلکہ اُن کریئیٹرز پر بھی جو AI اور ری یوز شدہ مواد سے ویڈیوز بنا رہے ہیں۔
پاکستانی یوٹیوبرز بھی اس نئی پالیسی کے تحت دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، خصوصاً وہ چینلز جو گیمنگ ویڈیوز یا AI سے تیار شدہ آوازوں کا استعمال کرتے ہیں۔ کئی پاکستانی یوٹیوب چینلز ایسے بھی ہیں جن کا مواد مکمل یا جزوی طور پر دہرایا گیا یا غیر مستند ہوتا ہے، اور اب ان کی مونیٹائزیشن معطل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔