صوابی(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی جس ماحول میں حکومت کر رہی ہے،اس میں عملاً حکومت کرنے کی اجازت ہی نہیں دی جا رہی،صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی حالانکہ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات روکی نہیں جا سکتی۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسد قیصر نے کہا کہ عمران خان اس ملک کے منتخب وزیرِاعظم رہ چکے ہیں لیکن آج ایک منتخب وزیراعلیٰ بھی ان سے ملاقات نہیں کر سکتا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک آئین اور قانون کے بجائے طاقت اور جبر کے اصول پر چلایا جا رہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان واقعی کسی ضابطے اور قانون کے تحت چل رہا ہے یا صرف ڈنڈے کے زور پر؟۔سابق سپیکر نے کہا کہ ظلم اور جبر کا یہ نظام کسی صورت قبول نہیں،اگر اس ملک میں رہنا ہے تو آئین اور قانون کی بالادستی کے تحت رہنا ہو گا،موجودہ صورتحال میں ہونے والا ظلم صرف عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ پورے عوام کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ عوام سے ان کا بنیادی حق،یعنی ووٹ کا حق،چھینا جا چکا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے والے سے زیادہ اہم ووٹ گننے والا بنا دیا گیا ہے،اگر کسی عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں تو وہ عوام کی بات کیوں سنے گا؟ جب عوام کے پاس ووٹ کا اختیار ہوتا ہے تو نمائندہ بھی عوام کی قدر کرتا ہے۔انہوں نے ہری پور کے ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ووٹ کسی اور کو پڑا مگر منتخب کوئی اور ہو گیا،فارم 45 میں نتائج درست دکھائے گئے مگر کمپیوٹر پر بیٹھا شخص اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر کے نتیجہ بدل دیتا ہے۔اسد قیصر نے عدالتی نظام اور الیکشن کمیشن پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے،جو جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے حقِ رائے دہی کو اسی طرح پامال کیا جاتا رہا تو اس کے نتائج صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ پورا ملک بھگتے گا کیونکہ حقیقی جمہوریت کے بغیر ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
ملک قانون نہیں ڈنڈے سے چل رہا،تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں حکومت ہی نہیں کرنے دی جا رہی،اسد قیصر کا سنگین الزام
5