اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سینیٹ میں اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے مرکزی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ستائیسویں آئینی ترمیم پر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی حال میں اس ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج بھی دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی شرکت نہیں ہوگی۔
ایگزو نیوز کے مطابق بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ ترمیم غیر آئینی اور آئینی روایات کے خلاف ہے، اس کے ذریعے عدلیہ کی آزادی محدود کرنے اور ججز پر دباو ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور قوم کو آئینی خامیوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم صرف وہ پارلیمنٹ کرسکتی ہے جو باقاعدہ انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئی ہو، غیر منتخب ارکان کے ذریعے ترمیم کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کل کی طرح آج بھی اپوزیشن اس ترمیم کی بھرپور مخالفت کرے گی۔دوسری جانب، ستائیسویں ترمیم پر غور اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں صدر اور وزیراعظم کو تاحیات مقدمات اور گرفتاری سے استثنیٰ دینے کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس میں سینیٹرز اور کمیٹی اراکین بل کی ہر شق کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئینی اور قانونی پہلووں پر حتمی سفارشات تیار کی جا سکیں۔یہ اجلاس ملکی پارلیمانی تاریخ میں اہم موڑ ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں عدالتی اصلاحات، پارلیمانی اختیارات اور وفاقی و صوبائی تعلقات میں بنیادی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ اور حکومت کی تیز رفتار پیش رفت کے درمیان آئینی ترمیم کے حتمی مسودے پر آج اہم فیصلہ متوقع ہے۔
آئینی بحران شدت اختیار کر گیا،سپریم کورٹ اور عدلیہ پر دباو کے خلاف اپوزیشن متحد
3