اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے شفاف انتخابات، نئے الیکشن کمشنر کی تقرری اور آئینی و جمہوری اقدار کے استحکام کے لیے ڈائیلاگ کی واضح پیشکش کر دی ہے۔ یہ فیصلہ تحریک کے اجلاس میں کیا گیا جو اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور آئینی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں اصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی و معاشی بحران، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، گورننس کے فقدان اور عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی کا شکار ہے، جس سے نکلنے کے لیے ایک نئے قومی میثاق کی اشد ضرورت ہے۔ شرکاءکا مو¿قف تھا کہ محض احتجاج یا ڈیڈلاک مسائل کا حل نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے بامعنی مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔تحریک تحفظ آئین نے اعلان کیا کہ اپوزیشن مستقبل میں شفاف اور قابل قبول انتخابات، متفقہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، پارلیمانی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ اور آئینی و جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے حکومت سے ڈائیلاگ کے لیے تیار ہے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ بانی پی ٹی آئی سے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری تحریک خود لے گی بشرطیکہ تمام سیاسی جماعتیں آئین 1973 کی بالادستی پر متفق ہوں۔اجلاس میں اپوزیشن کی دو روزہ قومی کانفرنس کی کامیابی کا جائزہ لیا گیا جبکہ 8 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ سیاہ منانے اور ہڑتال کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس کے ساتھ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی دعوت کو بھی سنجیدگی سے زیر غور لایا گیا۔شرکاءنے اس امر پر زور دیا کہ اگر تمام سیاسی قوتیں 1973 کے آئین کی مکمل بحالی، پارلیمانی اور سویلین بالادستی اور تمام اداروں کو آئینی حدود میں رکھنے پر اتفاق کر لیں تو سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں محمود خان اچکزئی کے اس سابقہ بیان کو بھی دہرایا گیا جو انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کی مذاکرات کی دعوت کے جواب میں فلور آف دی ہاو¿س پر دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایسی صورت میں عمران خان سے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری وہ خود لیں گے۔اجلاس میں 8 فروری کے یومِ سیاہ اور سٹریٹ موبلائزیشن کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر ذیلی کمیٹیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جن کے قیام کا باضابطہ اعلان جلد کیا جائے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک تحفظِ آئین کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی اور نئے میثاق کی پیشکش موجودہ سیاسی ڈیڈلاک میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس سے اگر سنجیدگی سے فائدہ اٹھایا گیا تو ملک کو درپیش بحرانوں کے حل کی راہ نکل سکتی ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا بڑا سیاسی بریک تھرو،حکومت سے مذاکرات پر آمادگی،شفاف انتخابات اور نئے میثاق کی پیشکش
3