اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے مبینہ انکشافات کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات کے بین الصوبائی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں،جس کے نتیجے میں کراچی،راولپنڈی اور دیگر شہروں میں افریقی باشندوں سمیت متعدد افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کوکین کوئین کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کے مبینہ انکشافات کے بعد ملک بھر میں منشیات کے بین الصوبائی نیٹ ورک کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں کراچی، راولپنڈی، قصور اور دیگر شہروں میں افریقی باشندوں سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک منظم نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات کا حصہ ہیں، جس کے مختلف روابط ملک کے کئی شہروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے مطابق ابتدائی کارروائیوں میں اب تک 24 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور ترسیل کے مختلف مراحل میں شامل تھے اور مبینہ طور پر یہ نیٹ ورک پاکستان میں منشیات کی سپلائی چین کا اہم حصہ تھا۔مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض افریقی ملزمان نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں،جس کے ذریعے نیٹ ورک کے روابط مزید مضبوط کیے گئے۔تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نیٹ ورک انتہائی منظم انداز میں کام کر رہا تھا اور اس میں مختلف شہروں میں موجود مقامی سہولت کار بھی شامل تھے۔پولیس اور دیگر ادارے گرفتار افراد سے مسلسل تفتیش کر رہے ہیں جبکہ مزید گرفتاریوں کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک سے جڑے تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات سمیت مختلف مقدمات میں جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے اسے مزید 22 مئی تک پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے تاکہ تفتیش کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے زبردستی بیانات لیے جا رہے ہیں اور جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں، تاہم تفتیشی افسر نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ بار بار اپنے بیانات تبدیل کر رہی ہے اور ایک منظم نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ ملزمہ کے موبائل فون سے 869 مختلف نمبرز کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ ایک بینک اکاونٹ سے تین کروڑ روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق ملزمہ کے نیٹ ورک میں بائیک رائیڈرز، سہولت کار اور دیگر عناصر شامل ہیں، جن میں سے متعدد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی پر الزام ہے کہ وہ کراچی سے لاہور تک پھیلے ایک بڑے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے، جس میں اس کے قریبی رشتہ دار بھی مبینہ طور پر شامل رہے ہیں۔مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ مشکوک سرگرمیوں کو چھپایا جا سکے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی میں بلکہ کوکین کی تیاری اور اس کے مخصوص برانڈنگ سسٹم میں بھی مبینہ طور پر ملوث رہی ہے۔حکام کے مطابق نیٹ ورک کے مالی معاملات،آن لائن ٹرانزیکشنز اور بین الاقوامی روابط پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اس منشیات نیٹ ورک کے تمام روابط مکمل طور پر ختم نہیں کر دیے جاتے۔