بیجنگ(ایگزو نیوز ڈیسک)آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر چین نے تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے جو خطے کے امن و استحکام کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ حساس معاملات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمد و رفت عالمی تجارت اور توانائی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق چین نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حالات نہایت حساس ہیں اور کسی بھی غیر محتاط اقدام سے صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی بحری آمد و رفت کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے،جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے،اس لیے اس راستے پر آزاد اور محفوظ جہاز رانی کا تسلسل عالمی معیشت اور تجارت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس اہم بحری راہداری میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر معاشی بے یقینی کو جنم دے سکتی ہے۔چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور محفوظ آمد و رفت تمام ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس سے متعلق تمام معاملات کو تحمل، ذمہ داری اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل کیا جائے۔بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ طاقت کے استعمال یا اشتعال انگیز اقدامات کے بجائے مکالمہ اور سفارتی ذرائع ہی پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔بیجنگ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور اہم عالمی طاقتیں اس حساس صورتحال میں توازن برقرار رکھنے اور کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ہرمز میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے اجتناب،مذاکرات ہی واحد راستہ،خطہ مزید عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا،چین کا سفارتی پیغام
15