ارمچی(ایگزو نیوز ڈیسک)چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے ہیں، جس میں دونوں ممالک نے خطے میں باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور اہم مسائل کے حل کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بات چیت اور رابطے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں باہمی اعتماد اور امن قائم رکھا جا سکے۔
ایگزو نیوز کے مطابق چین کے شہر ارمچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں،جنہیں خطے میں استحکام اور باہمی تعلقات کی بہتری کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے وفود نے مذاکرات کے دوران اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر پیش رفت کی۔مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کی جانب سے خارجہ امور،دفاع اور سلامتی سے متعلق اعلیٰ حکام کے نمائندوں نے شرکت کی،جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بات چیت کا دائرہ وسیع اور حساس نوعیت کے امور پر مشتمل تھا۔فریقین نے مذاکرات کے انعقاد اور موثر میزبانی پر چین کا شکریہ ادا کیا اور اس کے کردار کو سراہا۔چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک نے باہمی مسائل کے حل کے لیے ایک جامع منصوبے پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باقاعدہ رابطے اور مکالمے کا سلسلہ برقرار رکھیں گے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھایا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں سیکیورٹی، سرحدی معاملات اور باہمی اعتماد کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے میں چین کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے نزدیک،ارمچی مذاکرات کا تسلسل اور اس میں طے پانے والے نکات مستقبل میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، سیکیورٹی خدشات کو کم کرنے اور اقتصادی روابط کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں بشرطیکہ دونوں ممالک سنجیدگی سے طے شدہ امور پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔