وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی جانب سے گذشتہ دنوں مختلف قومی اخبارات میں شائع ہونے والے مضمون،جس میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کو ایک تاریخی اور انقلابی اقدام کے طور پر پیش کیا گیا،بظاہر ایک مضبوط سماجی بیانیہ تشکیل دیتا ہے مگر جب اس تحریر اور پنجاب اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کئے گئے بل کا جائزہ قرآن و سنت اور اسلامی احکامات کی روشنی میں لیا جائے تو اس میں کئی ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو قابل غور ہی نہیں بلکہ قابل نقد بھی ہیں۔کسی بھی مسلمان معاشرے میں محض جذباتی اپیل یا سماجی مسائل کی شدت کو بنیاد بنا کر ایسے قوانین کی غیر مشروط حمایت نہیں کی جا سکتی جو شریعت کے طے شدہ اصولوں سے متصادم ہوں،کیونکہ اسلام میں اصل معیار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات ہیں،نہ کہ وقتی سماجی رجحانات۔
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مضمون میں کم عمری کی شادی کو مکمل طور پر ظلم،جبر اور استحصال کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور یہ تاثر دیا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر ہر شادی ایک سنگین جرم ہے جبکہ قرآن مجید اس معاملے میں ایک مختلف اور زیادہ فطری اصول پیش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں،پھر اگر تم ان میں سمجھداری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو”(سورةالنساء: 6)۔اس آیت میں واضح طور پر نکاح کی اہلیت کو بلوغت اور رشد کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے،نہ کہ کسی مخصوص عددی عمر کے ساتھ۔ اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اسلام میں نکاح کے لیے اصل بنیاد جسمانی اور ذہنی پختگی ہے،نہ کہ ریاست کی طرف سے مقرر کردہ ایک یکساں عمر۔اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی نکاح کے معاملے میں اصل زور رضامندی اور عدل پر دیا گیا ہے۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:”کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے”(صحیح بخاری: 5136)۔اس حدیث سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام کا اصل مسئلہ کم عمری نہیں بلکہ جبر اور ناانصافی ہے۔اگر کسی لڑکی یا لڑکے پر نکاح مسلط کیا جائے تو وہ یقیناً ظلم ہے مگر اگر کوئی بالغ فرد اپنی مرضی اور ولی کی نگرانی میں نکاح کرتا ہے تو اسے محض عمر کی بنیاد پر جرم قرار دینا شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔
عظمیٰ بخاری کے مضمون میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ یہ قانون بیٹیوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے ایک آہنی دیوار ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام نے پہلے سے ہی عورتوں کو حقوق فراہم نہیں کیے؟اسلام نے صدیوں پہلے عورت کو وراثت کا حق دیا،نکاح میں رضامندی کا اختیار دیا اور اس کی عزت و وقار کو محفوظ بنایا۔اگر آج بھی کسی معاشرے میں ونی،جبری شادی یا بچیوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو یہ اسلامی تعلیمات کی ناکامی نہیں بلکہ ان پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔مزید برآں،اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر ہر شادی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے،خواہ فریقین بالغ اور راضی ہی کیوں نہ ہوں۔یہاں ایک بنیادی شرعی اصول مجروح ہوتا ہے،کیونکہ اسلامی فقہ کے مطابق بلوغت کے بعد نکاح جائز ہے۔اگر کوئی قانون ایسے نکاح کو بھی قابل سزا جرم قرار دے دے جو شریعت کے مطابق جائز ہو تو یہ ایک واضح تضاد پیدا کرتا ہے۔اسلام میں حلال کو حرام قرار دینا کسی انسان یا ادارے کا اختیار نہیں بلکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
عظمیٰ بخاری کے مضمون میں جذباتی انداز میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا بیٹیوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اور کیا انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے بیٹی کو عزت،تحفظ اور حقوق دینے میں کسی بھی نظام سے سبقت حاصل کی ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام نے حقوق نہیں دیے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان حقوق پر عملدرآمد نہیں ہو رہا لہٰذا حل یہ نہیں کہ شریعت کے اصولوں کو تبدیل کر دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ ان پر صحیح معنوں میں عمل کیا جائے۔یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ اس طرح کی قانون سازی اکثر بین الاقوامی دباو اور عالمی بیانیے کے زیر اثر کی جاتی ہے،جس میں اسلامی اقدار کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”اور تم ہرگز یہود و نصاریٰ سے راضی نہیں ہو سکتے جب تک تم ان کے طریقے کی پیروی نہ کرو”(سورة البقرہ: 120)۔ اس آیت کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ مسلمان اپنے قوانین بناتے وقت اپنی دینی شناخت کو مقدم رکھیں اور ہر اس قانون کو تنقیدی نظر سے دیکھیں جو بیرونی اثرات کے تحت متعارف کروایا جا رہا ہو۔یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ کم عمری کی شادی کے بعض واقعات میں ظلم اور ناانصافی ہوتی ہے لیکن انفرادی غلطیوں کو بنیاد بنا کر ایک ایسے شرعی عمل کو مکمل طور پر جرم قرار دینا جو اپنی اصل میں جائز ہے،ایک انتہاپسندانہ طرزِ فکر ہے۔
اسلام ایک متوازن دین ہے جو نہ تو جبر کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی فطری ضروریات کو غیر ضروری طور پر محدود کرتا ہے۔اگر نکاح کو حد سے زیادہ مشکل بنا دیا جائے تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں دیگر اخلاقی مسائل جنم لے سکتے ہیں،جو کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں لہٰذا ایک منصفانہ اور دیانت دارانہ تجزیہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ” چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ“ اور عظمیٰ بخاری کے مضمون میں پیش کیے گئے بیانیے کو حرفِ آخر نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھا جائے۔اصلاح کا حقیقی راستہ وہی ہے جو اسلامی اصولوں کے اندر رہتے ہوئے نکالا جائے،جس میں جبر،ظلم اور استحصال کا خاتمہ بھی ہو اور شریعت کے دائرہ کار کو بھی برقرار رکھا جائے۔کسی بھی قانون کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ نہ صرف سماجی مسائل کا حل پیش کرے بلکہ دینی اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہو، کیونکہ ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد محض قوانین پر نہیں بلکہ قرآن و سنت کی پیروی پر قائم ہوتی ہے