تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)چیچن فوجی یونٹس نے دبنگ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو وہ “حق اور باطل کی جنگ” میں ایران کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔رمضان قدیروف کے وفادار دستے ایران میں ممکنہ تعیناتی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور انہیں اس کشیدگی کو مذہبی جہاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی طاقتیں اس صورتحال کی سخت نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ ایران کو ممکنہ زمینی خطرات کے خلاف مضبوط دفاعی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق چیچن فوجی یونٹس نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو وہ ایرانی افواج کی مدد کے لیے فوری طور پر میدان میں اتریں گے۔ چیچن قیادت نے جاری کشیدگی کو “مذہبی جنگ” قرار دیتے ہوئے اسے جہاد سے تعبیر کیا ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق رمضان قدیروف کے وفادار چیچن فوجی دستے ایران میں تعیناتی کے لیے اپنی مکمل تیاری کر چکے ہیں۔چیچن فورسز کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں مداخلت کریں گے جب امریکہ ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرے گا۔ دستوں کے مطابق یہ تنازع حق اور باطل کی جنگ ہے اور براہ راست مداخلت کو “جہاد” سمجھا جائے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ممکنہ زمینی کارروائی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے اور اس دوران ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس دوران ایران کے اقوام متحدہ کے سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط میں الزام عائد کیا کہ یوکرین بھی اس تنازع میں شامل ہے اور سینکڑوں ماہرین خطے میں بھیج چکا ہے۔چیچن فورسز، جنہیں “کدیروفسی” بھی کہا جاتا ہے، ماضی میں روس کے ساتھ یوکرین سمیت دیگر تنازعات میں بھی شریک رہ چکی ہیں اور اب ممکنہ طور پر ایران کے حق میں بھی میدان میں آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی طاقتیں اس صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں۔