Home » غیر ملکی خواتین اغوا کیس پر ڈی آئی جی کی بریفنگ میں ہنگامہ آرائی،صحافتی نظم و ضبط پر سوالات اٹھ گئے

غیر ملکی خواتین اغوا کیس پر ڈی آئی جی کی بریفنگ میں ہنگامہ آرائی،صحافتی نظم و ضبط پر سوالات اٹھ گئے

تحریر:خالد شہزاد فاروقی

by ahmedportugal
28 views
A+A-
Reset

صحافت کا بنیادی جوہر سوال ہے مگر سوال کی اپنی ایک حرمت ہوتی ہے،ایک ترتیب ہوتی ہے اور ایک تہذیب ہوتی ہے۔۔۔سوال اگر دلیل سے خالی ہو جائے تو وہ محض شور رہ جاتا ہے اور شور کبھی سچائی تک نہیں لے جاتا۔۔۔صحافت اگر توازن کھو دے تو وہ احتساب کے بجائے محض ردعمل بن جاتی ہے اور ردعمل اکثر حقیقت کے دروازے بند کر دیتا ہے۔۔۔صحافت کسی بھی معاشرے کی وہ حساس اور زندہ رگ ہے جہاں سے سچائی کی نبض محسوس کی جاتی ہے۔۔۔۔یہ وہ آئینہ ہے جس میں ریاستیں بھی اپنا چہرہ دیکھتی ہیں اور عوام بھی اپنے مسائل کا عکس تلاش کرتے ہیں۔۔۔صحافی صرف خبر لانے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ تاریخ کے اوراق پر وقت کی گواہی ثبت کرنے والا قلم کار ہوتا ہے۔۔۔اسی لیے صحافت کو ہمیشہ ایک ذمہ دار،سنجیدہ اور باوقار پیشہ سمجھا گیا ہے۔۔۔اس پیشے کی حرمت اس کے اصولوں،اس کے آداب اور اس کے اخلاقی معیار سے جڑی ہوئی ہے۔۔۔۔لاہور میں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی جانب سے ایک نہایت حساس کیس”دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا“پر میڈیا بریفنگ کا مقصد بظاہر یہی تھا کہ ریاستی موقف،تحقیقات کی سمت اور اب تک سامنے آنے والے شواہد کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔۔۔ایک حساس نوعیت کے کیس پر منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس نے ایک بار پھر میڈیا کے کردار،اس کے نظم و ضبط اور اس کی پیشہ ورانہ سمت پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی پریس کانفرنس وہ موقع تھا جہاں معلومات کی شفاف ترسیل ناگزیر تھی لیکن اسی لمحے ایک اور سوال بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھا،کیا ہم بطور صحافی اپنے پیشہ ورانہ دائرے میں رہ کر اس معلومات کو وصول کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟؟؟صحافت کا حسن سوال میں پوشیدہ ہے مگر سوال کا وقار اس کے انداز سے جڑا ہوتا ہے۔۔۔ایک منظم سوال نہ صرف سچ کو واضح کرتا ہے بلکہ جواب دینے والے کو بھی مزید وضاحت پر مجبور کرتا ہے لیکن جب سوال اپنی ترتیب کھو دے،جب آواز دلیل پر غالب آ جائے اور جب مقصد معلومات کے بجائے محض اظہارِ ناراضی بن جائے تو پھر ایسی نشست اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔۔۔۔

یہی کیفیت ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی پریس کانفرنس کے موقع پر بھی دیکھنے میں آئی۔۔۔یہ ممکن ہے کہ اس کیس کی تحقیقات مکمل نہ ہوں۔۔۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پیش کیے گئے کچھ نکات بعد میں مزید وضاحت یا تصحیح کے محتاج ٹھہریں۔۔۔یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ تفتیشی عمل کسی دباو،کسی غلط فہمی یا کسی ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہو۔۔۔یہ بھی ممکن ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کیس کی پرتیں بدل جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس کے نتائج وہ نہ ہوں جو آج بیان کیے جا رہے ہیں۔۔۔بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر یہ کیس سوالات کی زد میں آ جائے اور اس کی تفتیش خود احتسابی کا حصہ بنے۔۔۔حتیٰ کہ یہ امکان بھی موجود رہتا ہے کہ اگر کہیں کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ داران کو اپنے عہدوں سے جواب دہی کا سامنا کرنا پڑے ۔۔۔لیکن ان تمام ممکنات،خدشات اور قیاس آرائیوں کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اور وہ ہے صحافت کا اخلاقی دائرہ کار۔۔۔

صحافت سوال ضرور اٹھاتی ہے مگر سوال کو ہتھیار نہیں بناتی۔۔۔۔صحافت احتساب ضرور کرتی ہے مگر احتساب کو ہنگامہ نہیں بناتی۔۔۔صحافت اختلاف ضرور رکھتی ہے مگر اختلاف کو بدتمیزی میں تبدیل نہیں کرتی۔۔بدقسمتی یہ ہے کہ بعض مواقع پر ہمارا رویہ اس توازن سے محروم ہو جاتا ہے۔۔۔سوال اپنی جگہ رہتا ہے مگر اس کا انداز بگڑ جاتا ہے۔۔۔اختلاف اپنی جگہ ہوتا ہے مگر اس کا اظہار غیر مہذب صورت اختیار کر لیتا ہے اور یوں وہ لمحہ جو معلومات کے تبادلے کا تھا،وہ شور اور بے ترتیبی کی نذر ہو جاتا ہے۔۔۔ڈی آئی جی فیصل کامران کی پریس کانفرنس بھی اسی کشمکش کی تصویر بن گئی۔۔۔ایک طرف ایک حساس کیس کی تفصیلات تھیں،دوسری طرف سوالات کے بجائے جذبات کی شدت ۔۔۔ایک طرف ریاستی موقف کی وضاحت تھی،دوسری طرف صحافتی نظم کی کمی اور نتیجہ یہ کہ وہ موقع جس سے عوام کو براہِ راست اور مربوط معلومات مل سکتی تھیں،وہ غیر ضروری شور کی بھینٹ چڑھ گیا۔۔۔

یہاں سوال ڈی آئی جی کی نیت یا ان کے بیان کی درستگی یا غلطی کا نہیں ۔۔۔وہ پہلو اپنی جگہ تفتیش اور تجزیے کا متقاضی ہے اور وقت اس کا فیصلہ کرے گا۔۔۔ممکن ہے کہ ان کی پیش کردہ تفصیلات میں کہیں جھول ہو،ممکن ہے کہ کچھ نکات بعد میں بہتر وضاحت مانگیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں اس کیس کا رخ وہ نہ رہے جو آج نظر آ رہا ہے مگر ان تمام امکانات کے باوجود ایک اور سوال زیادہ فوری اور اہم ہے،کیا صحافت اپنے بنیادی اصولوں پر قائم رہی؟صحافت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ غیر یقینی صورتحال میں بھی اپنے اخلاقی معیار کو برقرار رکھے۔۔۔وہ قیاس کو خبر نہ بنائے،وہ جذبات کو دلیل پر غالب نہ آنے دے اور وہ اختلاف کو ہنگامے میں نہ بدل دے ۔۔۔کیونکہ جب صحافت اپنی ترتیب کھو دیتی ہے تو وہ خود اپنی ساکھ کھو دیتی ہے۔۔۔آج کا المیہ یہ نہیں کہ سوالات اٹھائے گئے۔۔۔المیہ یہ ہے کہ سوالات کے اٹھانے کا انداز غیر منظم اور غیر پیشہ ورانہ ہو گیا۔۔۔سوال اگر اپنی ساخت کھو دے تو وہ جواب کو بھی بے معنی بنا دیتا ہے اور جب جواب بے معنی ہو جائے تو سچائی بھی دھندلا جاتی ہے۔۔۔

ہم اکثر معاشرے،ریاستی اداروں اور افسران کے رویوں پر تنقید کرتے ہیں اور یہ تنقید ضروری بھی ہے مگر ایک سوال بار بار ہماری اپنی سمت کا بھی تعین کرتا ہے،کیا ہم خود اس معیار پر پورا اترتے ہیں جس کی ہم دوسروں سے توقع رکھتے ہیں؟صحافت اگر معاشرے کی آنکھ ہے تو اس آنکھ کا صاف ہونا بھی ضروری ہے۔۔۔۔ اگر آنکھ میں گرد پڑ جائے تو منظر بگڑ جاتا ہے،حقیقت اپنی جگہ رہتی ہے مگر دکھائی نہیں دیتی۔۔۔اسی طرح اگر صحافت کا لہجہ بگڑ جائے تو خبر اپنی جگہ موجود رہتی ہے مگر اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔۔۔۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے پیشہ ورانہ رویوں پر ازسرنو غور کریں۔۔۔ہم اپنے سوال کو مضبوط کریں مگر اپنے لہجے کو مہذب رکھیں۔۔۔۔ہم اپنے اختلاف کو واضح کریں مگر اپنی زبان کو قابو میں رکھیں۔۔۔ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں مگر اپنی حد سے تجاوز نہ کریں۔۔۔کیونکہ صحافت کا وقار صرف خبر میں نہیں،خبر دینے کے طریقے میں بھی ہے اور جب طریقہ درست ہو تو اختلاف بھی بامعنی ہو جاتا ہے،سوال بھی موثر ہو جاتا ہے اور سچائی بھی زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ہاوسز اپنے نمائندوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔۔۔صرف خبر دینا کافی نہیں،خبر لینے کا سلیقہ بھی سکھانا ضروری ہے۔۔۔پریس کانفرنس محض ایک رسمی نشست نہیں بلکہ ایک پیشہ ورانہ مکالمہ ہوتی ہے۔۔۔اس مکالمے میں نظم،ترتیب اور تحمل بنیادی عناصر ہیں۔۔۔اگر یہ عناصر کمزور پڑ جائیں تو پوری نشست اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔۔۔اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ صحافی اپنے ذاتی یا ادارہ جاتی اختلافات کو پیشہ ورانہ فرائض پر غالب نہ آنے دیں۔۔۔کسی بھی معاملے کو ذاتی سطح پر لے جانا صحافت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔صحافی کا اصل ہتھیار اس کی تحقیق،اس کا سوال اور اس کی غیر جانبداری ہے،نہ کہ اس کا لہجہ یا اس کی آواز کی شدت۔۔۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز