مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی بھارتی اقدام کو 5سال مکمل ہونے پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا۔ فاشسٹ مودی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرکے علاقے کا فوجی محاصرہ کرلیا تھا،یہ دن یوم سیاہ کے طورپر منایا جاتا ہے اس کے علاوہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کی حمایت اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر ریلیوں کا انعقادبھی کیا جا رہا ہے۔یوم استحصال کی مناسبت سے پاکستان سمیت خصوصاً دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہوں اور عمارتوں پر بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں،پاکستان کی آزادکی تاریخ جتنی پرانی ہے اس سے زیادہ پرانی کشمیرکے مجاہدین کی تحریک آزادی ہے،قائد اعظم محمد علی جناح ہر موقع پر کشمیر پر ہمیشہ بات کی انکی تقاریر کے اقتصابات موجود ہیں کہ انہوں نے ہر موقع پر پاکستان کو کشمیر سے جوڑا ہے، ہندو بنئے اور انگریزوں کی سازش سے آزادی کے وقت کشمیر کے مسئلے کو ”لٹکا“دیا گیا اور آج کشمیر بقول ہماری آئی ایس پی آر کے کشمیر نے پاکستان کے لاڈلے بچے کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔
ہر قوم اپنے بانیوں،محسنوں کے ارشادات کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بناتی ہے،خاص طور پر حکومتیں مگر ہمارے حکمرانوں کو اسکا پتہ ہی شائد نہیں کہ اس سال چودہ اگست کو پاکستان انشااللہ اپنی عمر کے 80ویں سال میں داخل ہوجائے گا۔کیا انہوں نے ماسوائے کشمیر پر بیانات، سیمینارز،سال میں ایک دفعہ اقوام متحدہ میں جاکر تقریر کرنے کے علاوہ کشمیر کیلئے کیا کیا ؟؟ ہر حکمران نے مسئلہ کشمیر کو وزارت خارجہ کے حوالے کردیا اور وزارت خارجہ کے ”بابو“ اپنے انداز میں اسکا حوالہ دیتے رہتے ہیں،مسئلہ کشمیر پاکستان کا ایک سیکورٹی مسئلہ بھی ہے کیونکہ جو کشمیر پر قابض ہے اور ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے نیز پاکستان کیلئے پانی کا مسئلہ یہ سب سیکورٹی کے معاملات ہیں 79سال میں پاکستان کے عوام 33سال مارشل لاء کا شکار رہے،وہ بھی صرف سیاست دانوں کو سزاوں،سیاسی جماعتوں کو سبق سکھانے پر لگے رہے،جمہوریت کو پروان چڑھنے کا وقت نہیں ملا پھر سیاست میں ایسے جاگیر دار،سرمایہ دار داخل ہوگئے جو صر ف اپنی آمدن بڑھانے کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔
کشمیری مجاہدین اور عوام کی نظریں پاکستان کی مضبوط حمایت کی طرف دیکھتے رہے ہیں،انکے سامنے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کشمیر کے حوالے سے بیانات اور سوچ سامنے تھی اور ہے کہ پاکستان اپنے بانی کے کشمیر کے حوالے سے ارشادات اور خواہش پر ہی توجہ دیگا۔کشمیر صرف پہاڑوں، دریاوں، وادیوں اور برف پوش چوٹیوں کا نام نہیں۔جنوبی ایشیا کی تاریخ میں کشمیر ایک ایسا سوال ہے جو قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی پیدا ہوا اور آج تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔پاکستان میں کشمیر کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا نام ذہن میں آتا ہے۔اس کی وجہ محض یہ نہیں کہ کشمیر قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ایک بڑا قومی مسئلہ بن گیا تھا بلکہ اس لیے بھی کہ قائداعظم خود کشمیر کے سیاسی حالات میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔کشمیر کے بارے میں قائداعظم سے ایک جملہ بہت مشہور ہے”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“یہ جملہ پاکستان کے سیاسی اور عوامی بیانئے میں کئی دہائیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جملے کو الگ رکھ بھی دیا جائے تو قائداعظم کے اصل بیانات اور اقدامات سے کشمیر کی اہمیت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔
قائداعظم کی کشمیر میں دلچسپی 1947 میں پاکستان بننے کے بعد اچانک پیدا نہیں ہوئی تھی۔وہ قیام پاکستان سے پہلے ہی کشمیر کے مسلمانوں کے سیاسی حالات سے واقف تھے۔1944 میں قائداعظم نے کشمیر کا دورہ کیا۔انہوں نے کشمیری مسلمانوں کے مختلف سیاسی حلقوں سے رابطہ کیا اور ان کے اتحاد اور سیاسی شعور کی اہمیت پر زور دیا۔اس وقت کشمیر میں مسلم سیاسی قیادت مختلف اختلافات کا شکار تھی اور ڈوگرہ حکمرانوں کے تحت مسلمانوں کو متعدد سیاسی اور معاشرتی مشکلات کا سامنا تھا۔قائداعظم کا بنیادی سیاسی فلسفہ یہ تھا کہ عوام اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔یہی اصول بعد میں کشمیر کے معاملے میں بھی نمایاں ہوا۔قیام پاکستان کے وقت ریاست جموں و کشمیر کی آبادی کی اکثریت مسلمان تھی جبکہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ تھے۔تقسیم ہند کے بعد ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی تھا۔اکتوبر 1947 میں حالات تیزی سے خراب ہوئے۔مسلح قبائلی لشکر کشمیر میں داخل ہوئے،مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے اور بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوگئی۔یوں کشمیر ایک مقامی سیاسی مسئلے سے بڑھ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا مسئلہ بن گیا۔
قائداعظم اس صورتحال سے بے خبر نہیں تھے۔انہوں نے کشمیر کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور اس کے سیاسی حل کے امکانات پر غور کیا۔اپریل 1948 کو امریکی سفیر پال ایلن کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے قائداعظم نے پاکستان کی خواہش کو منصفانہ استصوابِ رائے کے طور پر بیان کیا۔ادھر بھارت کے جواہر لال نہرو کا بیان جو انہوں نے آل انڈیا ریوڈو کو نومبر 1947 میں دیا اوریہ ہی بیان وہ مختلف عالمی اداروں کو بھی دیتے رہے کہ ” کشمیر کا الحاق ایک بحران کے وقت ہوا ہے،اس لیے بعد میں کشمیر کے عوام کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن و امان قائم ہونے کے بعد اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے اور بھارت کشمیری عوام کے فیصلے کو قبول کرے گا۔وہ تو غیر مسلم تھے،ہندوستانی کسی بھی حکومت نے بعد میں اپنے لیڈر جواہر لال نہرو کے فیصلے اور بیان کو خاطرمیں نہیں لیا مگر کیا ہم اپنے قائد بانی پاکستان کے بیانات کو خاطر میں لارہے ہیں،ہم تو آپس میں دست و گریبان ہیں،جو کشمیر کیلئے جدوجہد کرنے والوں کیلئے حوصلہ شکن ہیں۔
اڈیالہ کے باسی نے صدر ٹرمپ سے خوش گپیاں کیں،پاکستان واپسی پر ڈھول کی تھاپ پر اپنا استقبال بھی کرایا تاثر یہ دیا کہ کشمیر پر دوٹوک بات کی ہے،یہ ملاقات 22 جولائی کو ہوئی اور بھارت نے صرف 14 دن بعد کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط کرلیا ،ملاقات میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے مودی کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کو کہا ہے،جس پر اڈیالہ کے باسی نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا ”مجھے خوشی ہو گی اور آپ اسے مسئلے کو حل کرائینگے،کمزور بات چیت کا بھارت نے مکروہ جواب عملی طور پر دیا اور آرٹیکل 370 کی کئی دفعات ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے ہندو بنیوں کو وہاں نہ صرف آباد کردیا بلکہ انہیں کاروبار بھی کرایا۔5 اگست 2026 کو2557 دن ہو گئے اور کشمیری اپنی آزادی کا سورج طلوع ہونے کا انتظار کررہے ہیں،اللہ انکا حامی ہو اور انہیں کفار کے ظلم سے نجات دلائے،ہم آزاد کشمیر میں اقتدار کا جو ڈرامہ کھیل رہے ہیں وہ بھی کشمیر کی آزادی کا خواب دیکھنے والوں کیلئے تکلیف دہ ہیں۔ہر سال کشمیر کے دن مناکر،ایک جیسے بیانات، اور پھر سونے سے کشمیر کا مسئلہ حل کیسے ہو گا؟؟؟ہماری توجہ ہر سال کشمیر کیلئے ”یوم سیاہ “یوم الحاق ”یوم استحصال“ منا کر لگتا ہے اپنی بھر پور مدد کر رہے ہیں۔