اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے مسودے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے،جس کے بعد بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی،جس کے بعد کابینہ نے متفقہ طور پر مسودے کی منظوری دی۔
ایگزو نیوز کے مطابق اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں،جن میں گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کے لیے نسبتاً زیادہ اضافے کی تجویز شامل ہے جبکہ دیگر ملازمین کے لیے بھی مراعاتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔کابینہ اجلاس کے دوران ایک اہم مرحلے پر میڈیا کو کمرہ اجلاس سے باہر نکال دیا گیا اور اجلاس کو ان کیمرا کر دیا گیا،جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ بجٹ سے متعلق کچھ حساس فیصلے بند کمرے میں کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کی جانب سے بجٹ کی تیاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کو نہایت محنت اور خلوص کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور اس میں عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔کابینہ اجلاس میں وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت نے ڈیسک بجا کر وزیراعظم کی حمایت کا اظہار کیا جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ایک طرف عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری جانب معاشی استحکام کے لیے مشکل فیصلے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن کی تفصیلات بجٹ پیش ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
وفاقی کابینہ نے بجٹ 2026-27 کی منظوری دے دی،تنخواہوں میں اضافے کا عندیہ
29