اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اہم قانونی پیش رفت کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر دی ہے،جس میں سزا معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں ان کی صحت،قید کے حالات اور قانونی نکات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دورانِ قید بشریٰ بی بی کو آنکھوں کی بیماری لاحق ہوئی،جس کے باعث انہیں سرجری سے بھی گزرنا پڑا۔درخواست گزار کے مطابق وہ نہ صرف ایک خاتون ہیں بلکہ علالت کا شکار بھی ہیں،اس لیے انسانی اور قانونی بنیادوں پر انہیں سزا معطلی اور ضمانت کا حق دیا جانا چاہیے۔درخواست میں قید کے حالات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں،جن کے مطابق بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور اس دوران انہیں مناسب طبی سہولیات اور دیکھ بھال فراہم نہیں کی گئی۔یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ان حالات نے ان کی صحت کو مزید متاثر کیا۔مزید برآں اپیل میں قومی احتساب بیورو (نیب) پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ دانستہ طور پر سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلے میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے،جس سے انصاف کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان تمام پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی سزا معطل کی جائے اور درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق گذشتہ شب بشریٰ بی بی کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں اڈیالہ جیل سے الشفاءٹرسٹ آئی ہسپتال منتقل کیا گیا،جہاں پمز اور الشفاء کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور علاج کے لیے ادویات تجویز کیں۔ طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی اور قانونی معاملات پہلے ہی زیر بحث ہیں اور اس کیس کے آئندہ مراحل نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی خاصی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔