کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی شب لگنے والی ہولناک آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا بلکہ ایک پورے شہر کے دل پر گہرے زخم ثبت کر دیے۔تیسرے درجے کی اس خوفناک آتشزدگی نے قیمتی انسانی جانیں نگل لیں،سینکڑوں خاندانوں کا روزگار راکھ میں بدل دیا اور کراچی کی شہری یادداشت کے ایک اہم باب کو ملبے تلے دفن کر دیا۔جلتی ہوئی دکانوں کے سامنے کھڑے دکاندار اپنی زندگی بھر کی کمائی کو راکھ ہوتے دیکھتے رہے جبکہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ ہسپتالوں اور ملبے کے گرد بے بسی کے عالم میں اپنے پیاروں کو پکار رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق شہر قائد کے ایم اے جناح روڈ پر واقعگل پلازہ صرف ایک شاپنگ مال نہیں تھا بلکہ کراچی کے لاکھوں شہریوں کی یادوں،ضروریات اور روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔یہاں سے کسی نے اپنے بچے کے لیے پہلا کھلونا خریدا،کسی نے جہیز کا سامان تو کسی نے برسوں کی محنت سے کاروبار کھڑا کیا۔ آتشزدگی کے بعد عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو چکا ہے،ریسکیو آپریشن کے دوران ایک فائر فائٹر اپنی جان کی بازی ہار گیا،جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہو گئی جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہیں اور کئی افراد تاحال لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔
معروف کاروباری شخصیت تابانی گروپ کے چیئرمین حمزہ تابانی نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگوں کے روزگار اور کاروبار بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت، لاپتا افراد کی سلامتی اور غمزدہ خاندانوں کے لیے صبر کی دعا کی۔کراچی میں صحافتی فرائض انجام دینے والے فیضان لاکھانی نے گل پلازہ کو شہر کی شناخت قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ کوئی عام مارکیٹ نہیں بلکہ کراچی کے بڑے ہول سیل اور ریٹیل مراکز میں سے ایک تھی،جہاں ہوم ڈیکور،کھلونے،گھریلو سامان، الیکٹرانکس اور کروڑوں روپے کی تجارت ہوتی تھی،آج دکاندار باہر کھڑے اپنی زندگی کی کمائی جلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے شکوہ کیا کہ یہ وہی کراچی ہے جو ملک کو سب سے زیادہ آمدن دیتا ہے مگر جب یہ شہر مدد کے لیے پکارتا ہے تو کوئی سننے والا نہیں ہوتا،ہم ہمیشہ حادثے کے بعد ردعمل دیتے ہیں،پہلے سے تیاری کبھی نہیں کرتے اور یہی غفلت آج کے سانحے کی وجہ بنی۔
ریسکیو کے دوران پیش آنے والے خطرناک واقعات نے صورتِ حال کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا۔گل پلازہ کی بالائی منزل تک پہنچنے کی کوشش کے دوران ایک سیڑھی اچانک ٹوٹ کر گر گئی،جس کے نتیجے میں دو ریسکیو اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔۔سینئر صحافی مظہر عباس نے اس سانحے کو حکومتی نااہلی اور بدعنوانی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم صرف حادثے کے بعد جاگتے ہیں،پہلے کبھی عملی قدم نہیں اٹھاتے۔انہوں نے جیل روڈ پر واقع ڈپارٹمنٹل سٹور چیز اپ میں لگنے والی ماضی کی ہولناک آگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ حکومت اس واقعے کے بعد موثر اقدامات کرتی تو شاید آج گل پلازہ کا سانحہ نہ ہوتا،کراچی برسوں سے ناقابلِ انتظام بنا دیا گیا ہے اور اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔سینئر صحافی عصمت ملک نے نشاندہی کی کہ یہ سانحہ ایسے وقت میں پیش آیا جب چند روز قبل سندھ حکومت کی کارکردگی کے دعوے ایوانِ صدر میں پیش کیے گئے تھے، اور یہ حادثہ سرکاری بیانیے اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔صحافی حسن عباس نے سندھ حکومت، کے ایم سی اور کراچی فائر بریگیڈ کی برسوں کی غفلت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ نہ فائر رسک الاونس دیا گیا،نہ اپ گریڈیشن ہوئی،نہ نئی بھرتیاں کی گئیں اور نہ ہی نئے فائر سٹیشن قائم کیے گئے،جو انسانی جانوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی مشینری فوری طور پر متحرک ہوئی اور رات بھر آگ بجھانے کی کوششیں جاری رہیں۔ ریسکیو 1122 کے سی او او ڈاکٹر عابد جلال الدین کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارت کے اندر داخل ہونا انتہائی مشکل ہو گیا،ابتدائی مرحلے میں پانی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی اور تقریباً سب کچھ جل کر راکھ ہو چکا تھا۔سوشل میڈیا پر شہریوں نے حکومتی غفلت کے ساتھ ساتھ عوامی لاپرواہی کی نشاندہی بھی کی۔اینکر پرسن اشعر عالم نے انکشاف کیا کہ ایک روز قبل وہ قریبی پلازہ کے سامنے فائر ایگزٹس،ناقص وائرنگ اور عمارتوں کی خراب حالت پر بات کر رہے تھے تو دکانداروں نے اعتراض کیا تھا۔مصنف و صحافی مہوش اعجاز نے خبردار کیا کہ گل پلازہ جیسے حادثات کسی ایک جگہ تک محدود نہیں کیونکہ شہر کی بیشتر عمارتیں حفاظتی تقاضوں سے عاری ہیں اور طارق روڈ پر واقع رابی سینٹر جیسے مقامات کسی بڑے سانحے کے منتظر محسوس ہوتے ہیں۔کراچی کی رہائشی سونیا مرزا نے گل پلازہ کو اپنی ذاتی یادوں سے جوڑتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ نے اپنا جہیز وہیں سے خریدا تھا، ان کی پہلی ریموٹ کنٹرول کار بھی وہیں سے آئی تھی، اور آج ان کا گھر ایسی بے شمار چیزوں سے بھرا ہے جو اب جلتے اور بکھرتے ہوئے گل پلازہ کی یاد دلاتی ہیں۔ان کے بقول، یہ صرف ایک عمارت نہیں جل رہی بلکہ کراچی کی ایک پوری نسل کی یادیں راکھ ہو رہی ہیں۔