اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی بجٹ سے قبل سیاسی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جہاں ایک جانب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ پیش کرنے کی تاریخ پر اتفاق سامنے آیا ہے تو دوسری جانب اہم معاشی اور مالیاتی معاملات پر اختلافات نے صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔بریک تھرو کے دعووں اور ڈیڈلاک کی حقیقت کے درمیان الجھی یہ پیش رفت نہ صرف سیاسی منظرنامے کو پیچیدہ بنا رہی ہے بلکہ آئندہ بجٹ کے خدوخال پر بھی سوالات کھڑے کر رہی ہے، ایسے میں 10 جون کو پیش ہونے والا بجٹ ایک بڑی سیاسی اور معاشی آزمائش بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر مشاورت کے نتیجے میں بظاہر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے تاہم پسِ پردہ اختلافات تاحال برقرار ہیں،جس نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دے دیا ہے۔دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بجٹ 2026-27 کو 10 جون کو پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا تاہم کئی اہم امور پر حتمی ہم آہنگی نہ ہو سکی۔ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے تفصیلی ملاقات کی،جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ،ترقیاتی منصوبوں اور مجموعی معاشی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت منصوبوں،مالیاتی استحکام،عوامی فلاح اور جامع اقتصادی ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،نوید قمر،شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا سمیت دیگر اہم رہنما شریک ہوئے جبکہ سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بجٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔سندھ کے ترقیاتی اور آبی منصوبوں پر بھی خصوصی غور کیا گیا۔باوجود اس کے کہ بجٹ پیش کرنے کی تاریخ پر اتفاق ہو چکا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حصص،سبسڈی اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ مذاکرات کے دوران ان امور پر کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا،جس کے باعث آئندہ دنوں میں مزید اہم ملاقاتوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ سینئر قیادت کی سطح پر ہو گا،جس میں اسحاق ڈار کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے ملاقات متوقع ہے۔اس کے علاوہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی جلد بلائے جانے کا امکان ہے،جہاں بجٹ سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو،وفاقی بجٹ 10 جون کو ہی پیش کیا جائے گا جبکہ اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے تاہم موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کر رہی ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل سیاسی ہم آہنگی ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔