Home » بجٹ 2026-27،ترجیحیں الٹ گئیں؟ غریب اضلاع کیلئے ایک ارب مگر سیاستدانوں کیلئے 150 ارب سے زائد مختص ہونے کا انکشاف

بجٹ 2026-27،ترجیحیں الٹ گئیں؟ غریب اضلاع کیلئے ایک ارب مگر سیاستدانوں کیلئے 150 ارب سے زائد مختص ہونے کا انکشاف

by ahmedportugal
22 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ملک میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے متعلق سامنے آنے والی دستاویزات نے ترقیاتی ترجیحات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں،جہاں ایک طرف 20 انتہائی پسماندہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 40 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے مقابلے میں محض ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے،وہیں دوسری جانب ارکانِ پارلیمنٹ اور حکومتی اتحادیوں کے لیے 150 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش نے بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔معاشی ماہرین اور پالیسی حلقوں کے مطابق یہ اعداد و شمار ترقیاتی بجٹ کی سمت اور وسائل کی تقسیم میں واضح عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہیں، جو غریب اور پسماندہ علاقوں کی دیرینہ محرومیوں کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں ترقیاتی ترجیحات کے حوالے سے ایک اہم اور متنازع تجویز سامنے آئی ہے،جس کے مطابق ملک کے 20 انتہائی پسماندہ اضلاع کیلئے مجموعی طور پر 40 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کے مقابلے میں صرف ایک ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔یہ تجویز حکومتی ترقیاتی پالیسیوں اور وسائل کی تقسیم پر سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق پسماندہ اضلاع کی ترقیاتی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر پارلیمنٹیرینز اور حکومتی اتحادیوں کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ کیلئے 70 ارب روپے جبکہ اتحادی اراکین کیلئے 87 ارب روپے رکھنے کی سفارش سامنے آئی ہے،جو مجموعی ترقیاتی حکمت عملی میں واضح عدم توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔

دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے غریب ترین اضلاع کی ترقی کیلئے شروع کیا گیا منصوبہ 2022 سے مسلسل نظرانداز ہوتا آ رہا ہے،جس سے ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی رفتار متاثر ہوئی ہے۔پسماندہ اضلاع کی فہرست میں خضدار،واشک،کوہلو،موسیٰ خیل، ژوب،ڈیرہ بگٹی،قلعہ سیف اللہ، قلات،شیرانی،چاغی،تھرپارکر،بدین،عمرکوٹ،ٹنڈو محمد خان،کوہستان،شمالی وزیرستان،بٹگرام،شانگلہ،ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جیسے علاقے شامل ہیں،جہاں ترقیاتی ضروریات شدید نوعیت کی ہیں۔

مزید برآں بجٹ دستاویزات کے مطابق پلاننگ ڈویژن کیلئے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،جو 10 جاری ترقیاتی منصوبوں اور 10 خصوصی اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔سیلاب 2022 سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے 21 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم 45 ارب 78 کروڑ روپے کے منصوبے پر اب تک 23 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود مکمل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔دیگر منصوبوں میں بھی نمایاں کٹوتیوں اور محدود فنڈز کی تجویز سامنے آئی ہے،جن میں نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈیولپمنٹ کیلئے 40 کروڑ روپے،وزیراعظم انوویشن سپورٹ اینڈ سٹارٹ اپ پروگرام کیلئے 40 کروڑ روپے جبکہ سی پیک سیکرٹریٹ اور اس سے منسلک منصوبوں کیلئے بھی محدود فنڈنگ کی سفارش کی گئی ہے۔سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بجٹ تجاویز ترقیاتی ترجیحات میں واضح عدم توازن کی عکاسی کرتی ہیں،جہاں پسماندہ علاقوں کی ترقی کے بجائے سیاسی اور انتظامی مراعات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے،جو آئندہ مالی سال کے ترقیاتی ماڈل پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز