مانچسٹر(ایگزو نیوز ڈیسک پاکستانی کرکٹر حیدر علی کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ مانچسٹر پولیس نے ان کے خلاف مبینہ ریپ کے کیس کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر ختم کر دیا ہے، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حیدر علی کے خلاف کوئی قابل قبول ثبوت نہیں ملا، جس کے بعد وہ اب آزادانہ طور پر برطانیہ میں اپنے سفر جاری رکھ سکتے ہیں اور جلد ہی اپنا پاسپورٹ بھی واپس حاصل کریں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستانی کرکٹر حیدر علی کے خلاف مبینہ ریپ کیس مانچسٹر پولیس نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر خارج کر دیا ہے، جس کے بعد وہ اب آزادانہ طور پر برطانیہ سمیت کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، تحقیقات کے دوران حیدر علی کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا، اور آئندہ چند گھنٹوں میں انہیں پاسپورٹ بھی واپس کر دیا جائے گا۔واقعہ 23 جولائی کو مانچسٹر میں پیش آیا تھا، جس کے بعد 4 اگست کو متاثرہ خاتون کی شکایت موصول ہوئی اور پولیس نے حیدر علی کو گرفتار کر لیا۔ تحقیقات کے دوران انہیں ضمانت پر رہا رکھا گیا، لیکن شواہد کی کمی کے باعث کیس بند کر دیا گیا۔ اس دوران پاکستانی کرکٹ بورڈ نے حیدر علی کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا تاکہ ٹیم کی ساکھ محفوظ رہے۔یہ واقعہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالیہ انگلینڈ دورے کے دوران سامنے آیا، اور اس نے ٹیم اور شائقین کے لیے کافی تشویش پیدا کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق، ایسے حساس کیسز میں شفاف اور بروقت تحقیقات ضروری ہیں تاکہ کسی کی عزت اور قانونی حقوق متاثر نہ ہوں۔ حیدر علی کے کیس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ابتدائی الزامات اور میڈیا رپورٹس ہمیشہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، اور صرف شواہد کی بنیاد پر ہی فیصلے ہونے چاہئیں۔اب سب کی نظریں پاکستان کرکٹ بورڈ پر ہیں کہ وہ حیدر علی کی معطلی ختم ہونے کے بعد ٹیم میں دوبارہ شمولیت اور اعتماد کی بحالی کے عمل کو کس طرح انجام دیتا ہے۔ شائقین اور کرکٹ حلقے امید کر رہے ہیں کہ کرکٹر کے وقار اور کیریئر کی حفاظت کے ساتھ انصاف کی مکمل عمل داری ہوگی۔
برطانوی پولیس نے پاکستانی کرکٹر حیدر علی کو سب سے بڑی خوشخبری سنا دی
9