اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایک دہائی سے زائد عرصے کی کشیدگی،عدم اعتماد اور بالواسطہ سفارتی روابط کے بعد امریکا اور ایران پہلی بار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھ گئے ہیں،جو خطے اور عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، یہ مذاکرات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات کے حل کی جانب اہم قدم سمجھے جا رہے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن،استحکام اور ممکنہ جنگ کے خطرات کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی تصور کیے جا رہے ہیں۔پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ممکن ہونے والی یہ پیش رفت عالمی برادری کی بھرپور توجہ کا مرکز بن چکی ہے،جہاں امید کی جا رہی ہے کہ یہ مکالمہ کشیدگی کو کم کر کے ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ثابت ہو گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے،جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن نے دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار براہِ راست مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کی،جس کے بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے بھی اس پیش رفت کی توثیق کر دی۔ یہ مذاکرات پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئے ہیں،جہاں ایک دہائی سے زائد عرصے بعد دونوں ممالک آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے حوالے سے ابہام پایا جا رہا تھا کہ آیا یہ عمل ثالثی کے ذریعے ہوگا یا براہِ راست تاہم اب اس امر کی تصدیق ہو چکی ہے کہ دونوں فریقین براہِ راست مکالمے میں مصروف ہیں،جو سفارتی تاریخ میں ایک نمایاں تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں جاری ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق یہ مذاکرات اب تکنیکی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں مختلف امور پر تفصیلی غور کر رہی ہیں۔یہ بات چیت سرینا ہوٹل میں جاری ہے اور اسے ایرانی اسلامی انقلاب 1979 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات زیادہ تر بالواسطہ ذرائع سے ہوتے رہے تاہم محدود مواقع پر براہِ راست رابطے بھی دیکھنے میں آئے۔2015 میں باراک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا،جسے بعد ازاں 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناو پیدا ہوا۔اس کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی تھی،جس سے سفارتی روابط مزید محدود ہو گئے۔2020 میں قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور دونوں ممالک کے درمیان تصادم کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔
اسلام آباد میں موجودہ مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں کئی ادوار منعقد ہوئے،جن میں اپریل 2025 میں مسقط اور بعد ازاں جنیوا میں ہونے والی بات چیت شامل ہے تاہم یہ کوششیں کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکیں۔فروری 2026 میں جنیوا مذاکرات کی ناکامی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فریقین نہ صرف جنگ بندی پر آمادہ ہوئے بلکہ بالآخر براہِ راست مذاکرات کی میز پر بھی آ بیٹھے،جسے عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی اور خطے میں ممکنہ استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔