اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد یا پشاور کو بند کرنے، دھرنے دینے یا سیاسی دباو بڑھانے سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سزا ختم نہیں ہو سکتی، اڈیالہ جیل کا قیدی کسی احتجاج یا شہر بند کرنے کی کال سے رہا نہیں ہوگا اور قانون اپنا راستہ خود طے کرے گا۔
ایگزونیوز کے مطابق لاہور میں سندس فاونڈیشن کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اڈیالہ جیل میں وی وی آئی پی قیدی ہیں، مگر وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ کوئی غیر معمولی یا امتیازی سلوک کیا جائے۔ان کے مطابق وی آئی پی قیدی ہونے کی وجہ سے دیگر قیدیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے جبکہ اصول یہ ہونا چاہیے کہ سب کے ساتھ یکساں برتاو کیا جائے،سیاسی انتقام نہیں ہونا چاہیے لیکن سزا قانون کے مطابق بھگتنا ہوگی،بانی پی ٹی آئی اپنی سزا پوری کر کے ہی رہا ہوں گے،دھرنوں اور احتجاج سے عدالتی فیصلے تبدیل نہیں ہوتے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے یہ بھی کہا کہ اڈیالہ جیل کے اطراف کے عوام کے سکون کے لیے بانی پی ٹی آئی کو کسی اور جیل منتقل کرنے پر غور کیا جائے،پنجاب میں ہونے والے اچھے کاموں کی مثال دوسرے صوبوں کو بھی اپنانی چاہیے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کو محض سیاست کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہوگی۔گورنر کے پی نے پی ٹی آئی کی سابقہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں یہی حکومت دہشت گردوں سے مذاکرات اور ان کے دفاتر قائم کرنے کی بات کرتی تھی مگر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کے کسی ملک میں پاکستانی بغیر ویزا کے رہ سکتے ہیں؟ افغان مہاجرین سے متعلق فیصلے بھی ریاستی قانون کے مطابق ہوں گے،دباو میں نہیں۔سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیاسی مذاکرات مسلم لیگ ن کے بغیر ممکن نہیں، جب وہ خود مذاکرات کی بات کرتے تھے تو پی ٹی آئی قیادت ہاتھ ملانے تک کو تیار نہیں تھی اور آج وہ امپورٹڈ اپوزیشن لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ وہ ماضی میں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے بارے میں کیا زبان استعمال کرتے رہے ہیں؟۔انہوں نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کے خواہشمند راجا ناصر عباس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ کرم میں اہل تشیع پر ہونے والے ظلم، بھوک اور پیاس پر خاموش کیوں ہیں؟ کرم آج حقیقی معنوں میں کربلا بنا ہوا ہے مگر بعض عناصر اڈیالہ جیل کو کربلا قرار دے کر زمینی حقائق سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ صوبے کے مسائل حل کرنے کے بجائے اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھے رہتے ہیں جبکہ انہیں پشاور میں رہ کر عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے، خیبر پختونخوا گزشتہ 13 سال سے کرپشن کا گڑھ بنا ہوا ہے اور گورننس کے سنگین مسائل موجود ہیں۔اس سے قبل سندس فاونڈیشن کے دورے کے موقع پر گورنر خیبر پختونخوا کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے مختلف وارڈز کا دورہ کیا اور تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کی خیریت دریافت کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے سندس فاونڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے انسانیت کی حقیقی خدمت کر رہے ہیں۔