پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات کے بارے میں جو بیانیہ اکثر میڈیا اور بعض حلقوں میں پیش کیا جاتا ہے،وہ بظاہر سادہ اور متاثر کن لگتا ہے”چار سو مقدمات ہیں اور صرف پانچ یا سات مدعی ہیں،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام مقدمات جعلی ہیِ“ لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے،یہ دعویٰ نہ صرف غلط بلکہ عوام کو گمراہ کرنے والا بھی ہے۔سب سے پہلے بنیادی اعداد و شمار کو درست کرنا ضروری ہے۔موجودہ ڈیٹا کے مطابق توہین مذہب کے ایسے مقدمات کی تعداد چار سو نہیں بلکہ تقریباً 120 مقدمات ہے اور ان مقدمات میں مدعی صرف پانچ یا سات نہیں بلکہ تقریباً ساٹھ (60) افراد ہیں،جن میں ریاستی ادارے بھی شامل ہیں،جیسے پولیس اور قرآن بورڈ پنجاب۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقدمات محدود یا چند افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ قانونی اور ریاستی دائرہ اختیار کے مطابق درج کیے گئے ہیں۔اصل مغالطہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ملزمان کی تعداد کو مقدمات کے برابر قرار دے دیا جاتا ہے۔قانونی اصطلاحات میں مقدمہ (case) اور ملزم (accused دو الگ تصورات ہیں۔ ایک مقدمے میں کئی ملزمان شامل ہو سکتے ہیں۔اگر ایک مقدمے میں تین،چار یا دس افراد ہوں تو مقدمہ ایک ہی رہے گا لیکن ملزمان کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہی بنیادی فرق اکثر غلط بیانیہ بنانے والوں سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔
یہ بیانیہ جسے بعض اوقات ”بلاسفمی پروٹیکشن گینگ“ کہا جاتا ہے،چار اہم پہلووں پر مبنی ہے،مقدمات کی تعداد بڑھا کر دکھانا،مدعیوں کی تعداد گھٹا کر پیش کرنا، مقدمات اور ملزمان کے فرق کو مسخ کرنااور اسی جھوٹ پر مبنی نتیجہ اخذ کر کے عدالتی عمل کو مشکوک قرار دینا۔اگر مقصد واقعی اصلاح اور شفافیت ہوتا تو مقدمات کی صحیح تعداد،مدعیوں کی مکمل تفصیل اور ملزمان و مقدمات کے فرق کو واضح کیا جاتا لیکن جب مقصد تحقیق نہیں بلکہ پروپیگنڈا اور گمراہ کرنا ہوتا ہے تو اعداد و شمار بھی ایک ہتھیار بن جاتے ہیں۔پاکستان کے عدالتی نظام میں توہین مذہب کے مقدمات درج کرنے کے لیے واضح قانونی فریم ورک موجود ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC) سیکشن 295 اور 295-C کے تحت توہین مذہب کے مقدمات کی قانونی بنیاد واضح ہے۔ایک مقدمے میں متعدد ملزمان شامل ہو سکتے ہیں اور ہر ملزم کے خلاف علیحدہ کارروائی ممکن ہے لیکن مقدمہ ایک ہی رہے گا۔مقدمے کے مدعی یا complainant میں عام شہری کے علاوہ ریاستی ادارے،پولیس اور تعلیمی یا مذہبی بورڈز بھی شامل ہو سکتے ہیں،جو متاثرہ فریق کی نمائندگی کرتے ہیں۔عدالتی طریقہ کار کے مطابق مقدمات کی سماعت،دلائل اور شواہد کی جانچ کے بعد فیصلہ صادر ہوتا ہے اور مقدمات کی تعداد کو غلط انداز میں پیش کرنا عدالتی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔مستند حوالہ جات سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے جیسے پاکستان کی عدالتی رپورٹس اور Journal of Legal Studies, Pakistan (2021) میں بیان کیا گیا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمات میں اکثر مدعی ریاستی ادارے یا متاثرہ طبقے کے نمائندے ہوتے ہیں۔Quaid-i-Azam University، Public Policy Research Center, 2020 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقدمات کی قانونی بنیادیں مستحکم ہیں اور عدالتیں شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمات اور ملزمان کے فرق کو غلط پیش کرنا عوام میں غلط بیانیہ پیدا کرنے کے مترادف ہے اور یہ عدالتی عمل کی شفافیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔یہاں اصل مسئلہ اعداد و شمار نہیں بلکہ بیانیہ سازی ہے۔ مخصوص حلقے غلط اعداد پیش کرتے ہیں اور انہی غلط اعداد پر اخلاقی فیصلے صادر کرتے ہیں، تاکہ خود کو عقل کل ظاہر کیا جا سکے۔وہ مقدمات کی تعداد بڑھا کر دکھاتے ہیں،مدعیوں کی تعداد گھٹا کر پیش کرتے ہیں اور عدالتی کارروائی کو مشکوک قرار دیتے ہیں ۔اگر واقعی مقصد اصلاح ہوتا تودرست مقدمات اور مدعیوں کی تعداد بتائی جاتی،مقدمات اور ملزمان کے فرق کو صحیح تناظر میں پیش کیا جاتا اور عدالتی کارروائی کے شفاف ہونے کو تسلیم کیا جاتا لیکن جب مقصد تحقیق نہیں بلکہ دجل اور پروپیگنڈا ہو تو اعداد و شمار کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔یہی بلاسفمی پروٹیکشن گینگ کی اصل حقیقت ہے۔اگر کسی کو یہ بنیادی فرق معلوم نہیں کہ چار سو ملزمان کا مطلب چار سو مقدمات نہیں ہوتا تو وہ تجزیہ نہیں کر رہا بلکہ عوام میں جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے۔حقائق اور اعداد و شمار کو صحیح تناظر میں پیش کرنا شفافیت اور عدالتی عمل کی سالمیت کے لیے ناگزیر ہے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عوام کو درست معلومات فراہم کرنا، مقدمات اور قانونی عمل کی تفصیل سے آگاہ کرنا اور عدالتی کارروائی پر جھوٹے الزام تراشی سے گریز کرنا ملکی قانون اور شفافیت کے لیے ناگزیر ہے۔