برمنگھم(ایگزو نیوز ڈیسک)برمنگھم میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے قومی ٹیم کے خلاف اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی،جہاں انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 453 رنز بنا کر پاکستان کے 133 رنز کے جواب میں 320 رنز کی بھاری برتری حاصل کرلی جبکہ پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز بھی انتہائی مایوس کن رہا اور صائم ایوب اور عبداللہ شفیق بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایجبسٹن میں کھیلے جارہے ٹیسٹ کے دوسرے روز انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 453 رنز بنائے۔میزبان ٹیم نے پاکستانی بولنگ کا بھرپور سامنا کیا اور کئی بلے بازوں نے نصف سنچریاں سکور کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو ایک مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔انگلینڈ کی جانب سے ہیری بروک نے 75،جیمی اسمتھ نے 69،ڈین لارنس نے 65،ایمیلیو گے نے 60 اور اولی رابنسن نے 50 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی جبکہ جوفرا آرچر 32 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بولر رضا اللہ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کے چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔محمد عمران اور محمد علی نے بھی دو، دو وکٹیں حاصل کیں تاہم پاکستانی بولرز انگلش بیٹنگ کو بڑی شراکت داریوں سے روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور میزبان ٹیم نے 89 اوورز میں 453 رنز بنا کر اپنی پہلی اننگز مکمل کی۔
اس سے قبل پاکستان کی پہلی اننگز انتہائی مایوس کن رہی تھی اور پوری ٹیم صرف 133 رنز پر آوٹ ہوگئی تھی۔قومی ٹیم کی جانب سے سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے باز رہے جبکہ محمد عباس نے 21 رنز بنائے۔رضوان اللہ 11 اور اذان اویس 9 رنز بنا سکے۔کپتان بابر اعظم صرف 7 رنز بنا کر آوٹ ہوئے جبکہ شان مسعود اور محمد عمران رندھاوا نے 5،5 رنز بنائے۔پاکستان کی بیٹنگ لائن میں کئی اہم بلے باز ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔غازی غوری 4،عبداللہ شفیق 3 اور صائم ایوب بغیر کوئی رن بنائے آوٹ ہوئے۔یوں قومی ٹیم پہلی اننگز میں بڑے مجموعے سے محروم رہی اور انگلینڈ کو میچ میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹنگ نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے چار پاکستانی وکٹیں حاصل کیں جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے تین،تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔انگلش بولرز نے پاکستانی بیٹنگ کو ابتدا ہی سے دباو میں رکھا اور پوری ٹیم کو ایک بڑے خسارے میں دھکیل دیا۔انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں 453 رنز بنائے جانے کے بعد اسے پاکستان کے خلاف مجموعی طور پر 320 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔اس بڑے خسارے کے باعث پاکستان کو اب میچ میں واپسی کے لیے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ قومی ٹیم کو نہ صرف یہ خسارہ ختم کرنا ہوگا بلکہ انگلینڈ کو دوبارہ بیٹنگ پر مجبور کرنے کے لیے 320 رنز سے زیادہ کا مجموعہ بنانا ہوگا،بصورت دیگر اننگز کی شکست کا خطرہ بدستور موجود رہے گا۔
پاکستان کی دوسری اننگز بھی کسی اچھے آغاز سے محروم رہی۔اننگز شروع ہوتے ہی صائم ایوب اور عبداللہ شفیق بغیر کوئی رن بنائے آوٹ ہوگئے،جس کے بعد قومی ٹیم ایک مرتبہ پھر شدید دباو میں آگئی۔ پہلی اننگز میں بھی پاکستانی بیٹنگ لائن خاطر خواہ مزاحمت نہیں کرسکی تھی،اس لیے دوسری اننگز کے ابتدائی لمحات میں دو وکٹیں صفر پر گرنے سے ٹیم کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستانی ٹیم میں کئی اہم تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں۔ لارڈز ٹیسٹ میں شکست سے دوچار ہونے والی ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ پیس آل راونڈر محمد عمران رندھاوا،فاسٹ بولر رضا اللہ اور وکٹ کیپر غازی غوری کو ٹیسٹ ڈیبیو کرایا گیا۔اس کے علاوہ صائم ایوب کی بھی طویل عرصے بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپسی ہوئی۔پاکستانی ٹیم کے لیے یہ ٹیسٹ اس اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے کہ قومی ٹیم کو سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کا چیلنج درپیش ہے تاہم برمنگھم ٹیسٹ میں پہلے 133 رنز پر ڈھیر ہونے اور پھر انگلینڈ کو 453 رنز بنانے کا موقع دینے کے بعد 320 رنز کے خسارے نے پاکستان کی مشکلات کو انتہائی سنگین کردیا ہے۔اب پاکستان کے بلے بازوں کے سامنے سب سے بڑا امتحان اپنی دوسری اننگز میں طویل اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنا ہے۔قومی ٹیم اگر اس بڑے خسارے کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو انگلینڈ کے پاس میچ کو فیصلہ کن انداز میں اپنے حق میں ختم کرنے کا مضبوط موقع موجود ہے جبکہ پاکستان کے لیے سیریز کو وائٹ واش سے بچانے کی امیدیں بھی شدید دباو میں آچکی ہیں۔