شگر(ایگزو نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شفاف انتخابات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام خود فارم 45 کی حفاظت یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دھاندلی کا راستہ روکا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس بار فارم 47 کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور انتخابی عمل کو ہر صورت شفاف بنایا جائے گا،جس کے لیے عوامی نگرانی ناگزیر ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع شگر کی تحصیل گلاب پور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شفاف انتخابات کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام خود فارم 45 کی حفاظت کریں تاکہ کسی بھی قسم کی دھاندلی کا راستہ روکا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس بار فارم47 کی گنجائش نہیں ہوگی اور انتخابات کو ہر صورت شفاف بنایا جائے گا۔اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کے آئینی و معاشی حقوق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے معدنیات اور قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی عوام کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر گلگت بلتستان ترقی کرے گا تو اس کے مثبت اثرات پورے پاکستان،خصوصاً وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک پہنچیں گے۔انہوں نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تناظر میں گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے برابر حقوق دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ آئینی اصلاحات کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ گلگت بلتستان کے انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ ہی کرائے جائیں تاکہ حقیقی معنوں میں حقِ حکمرانی یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے وزارت امور کشمیر کو ختم کرنے اور گلگت بلتستان اسمبلی کو مکمل اختیارات دینے کی تجویز بھی پیش کی۔خطاب کے دوران انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض جماعتیں فیصلے اسلام آباد سے مسلط کرنا چاہتی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کے فیصلے وہیں کے عوام کریں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت سے نو نشستیں ”چھینی“ گئیں تاہم اس بار ایسی کسی صورتحال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عالمی امور پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایران کے خلاف جنگی صورتحال کی مذمت کی اور کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کارکردگی کو بھی سراہا۔اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو نے عوام سے بھرپور حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی کی طرح آئندہ بھی پسماندہ طبقات کی نمائندگی جاری رکھے گی اور ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کے نظریے کو عملی جامہ پہنائے گی۔