باغ(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر سیاسی دباو بڑھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نظام ناکام نہیں بلکہ ناکام کروایا گیا جبکہ وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔انہوں نے مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات،آزاد کشمیر کے انتخابی عمل اور ملکی سیاسی بحران پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے بڑے سیاسی دعوے کر دیے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سیاسی صورتحال،آزاد کشمیر کے انتخابات،حکومتی پالیسیوں اور نظامِ حکومت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے ناکام بنایا گیا ہے،جب تک عوام کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا،ملک کا سیاسی نظام درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا،سیاسی بحران برقرار رہیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کل بھی عوام کے ساتھ کھڑی تھی،آج بھی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی عوام کے شانہ بشانہ رہے گی،ہم ہمیشہ اپنے منشور،اپنے نظریے اور عوام کی خدمت کے جذبے کے ساتھ لوگوں کے پاس جاتے ہیں،ان انتخابات میں بھی میں ایک نیا منشور لے کر آپ کے سامنے آیا ہوں؛ایسا منشور جو کشمیر کے عوام کے تحفظات کا ازالہ کرے،ان کے مسائل کا حل پیش کرے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق دلائے،میری خواہش ہے کہ وادی کشمیر کو حقیقی معنوں میں ‘جنتِ بینظیر’ بنایا جائے مگر صرف خوبصورت پہاڑ،سرسبز وادیاں اور بہتے دریا کسی خطے کو جنت نہیں بنا سکتے،اگر عوام اپنے حقوق سے محروم ہوں،اگر ہمارے دریا بہتے رہیں لیکن یہاں کے لوگوں کو پانی اور بجلی نہ ملے،اگر عوام کے پاس حقِ حاکمیت،حقِ ملکیت اور حقِ روزگار نہ ہو تو ایسی خوبصورتی کا کوئی فائدہ نہیں،میرا منشور اور میری جدوجہد یہی ہے کہ کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ حاکمیت،حقِ ملکیت اور حقِ روزگار دلایا جائے تاکہ وادیٔ کشمیر واقعی جنتِ بے نظیر بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں وزیراعظم شہباز شریف سے کوئی شکایت نہیں تاہم اصل سیاسی تنازع کچھ اور ہے،مسلم لیگ ن کے اندر ایک ایسا دھڑا موجود ہے جو وزیراعظم کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اتحادی جماعتوں سے بھی ٹکراو کی طرف لے جا رہا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کی حکومت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں اور الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے،یہ گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی بلکہ حکمران جماعت کے اپنے لوگوں نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا ہے،اصل کشمکش اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ہے اور یہ ایک خاندانی سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو دھاندلی زدہ اور خونی انتخابات قبول نہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں، کارکنوں اور آزاد کشمیر کے صدر کو نشانہ بنایا گیا،جو کسی بھی سیاسی اتحاد کے شایان شان نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر ایک ہے تو انتخابات بھی ایک ہی دن ہونے چاہئیں تھے،آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابات کو چھ مراحل میں تقسیم کیا گیا جبکہ مرحلہ وار انتخابات کے باوجود شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے عوام طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ و سڑکوں کی بندش نے معمولات زندگی متاثر کیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والوں دونوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں،ان کی ترجیح صرف یہ ہے کہ عوام کو بنیادی حقوق،امن اور معمول کی زندگی واپس ملے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ تمام سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔انہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی کی جانب سے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سچائی سامنے لانے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر نئے صوبے بنانا عوام کا فیصلہ ہو گا تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی لیکن اگر یہ فیصلہ عوام کی مرضی کے بغیر کیا گیا تو پارٹی ساتھ نہیں دے گی۔نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے،جس چیز کا عوام مطالبہ کریں گے،پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہوگی،خواہ بات کشمیر کی ہو،گلگت بلتستان کی،پنجاب کی یا ملک کے کسی بھی حصے کی،فیصلہ عوام کا ہو گا اور پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے فیصلے کا احترام کرے گی،البتہ یہ توقع نہ رکھی جائے کہ ہم عوام کی خواہشات کے برخلاف کوئی مؤقف اختیار کریں گے،پاکستان پیپلز پارٹی نے نہ کبھی تاریخ میں عوام کے خلاف سیاست کی ہے،نہ آج کرے گی اور نہ ہی آئندہ کبھی عوام کی رائے کے خلاف کھڑی ہوگی،بنیادی حقوق اور عوامی اعتماد کے بغیر انتظامی تقسیم کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں آسانی سے حکومت بنا لے گی،عوامی مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے اور پیپلز پارٹی کسی بھی ایسے فیصلے کا حصہ نہیں بنے گی جو عوامی خواہشات کے خلاف ہو۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور آزاد کشمیر کے عوام کو حقِ ملکیت، حقِ روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ملک کو سیاسی استحکام،عوامی اعتماد اور جمہوری اصولوں کی ضرورت ہے،کیونکہ عوامی مینڈیٹ کے احترام کے بغیر کوئی بھی نظام دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔